مزاحمتی قیادت کی کال

سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے این آئی اے کی چھاپہ مار کارروائیوں، تلاشیوں، وادی میں جاری گرفتاریوں کے چکر اور35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی مبینہ’’ سازشوں‘‘ کے خلاف دی گئی 2روزہ کال کے پیش نظر وادی کے شرق و غرب میں پہلے روز مکمل ہڑتال کے نتیجے میں عام زندگی کے معمولات ٹھپ ہوکر رہ گئے۔

ہڑتال

 ہڑتال کے پیش نظر وادی کے جنوب و شمال میں مکمل بند رہا،جس کے نتیجے میں عام زندگی پٹری سے نیچے اتر گئی۔ہمہ گیر ہڑتال کال سے سرینگر کے علاوہ وادی کے دیگر اضلاع اور تحاصیل صدر مقامات میں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک،تعلیمی ادارے او رغیر سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔وسطی کشمیر میں بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال کا سماں نظر آیا جس کے دوران معروف و مصروف بازار صحرائی منظر پیش کر رہے تھے۔جنوبی کشمیر میں بھی مکمل ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق کولگام میں مثالی ہڑتال ہوئی،جس کے دوران بازاروں میں الو بولتے ہوئے نظر آئے،جبکہ دکان اور تجارتی کمپلیکس مقفل رہے۔دمحال ہانجی پورہ،یاری پورہ،دیوسر،قاضی گنڈ،فرصل،پہلو،کھڈونی،ریڈونی اور کیموہ سمیت دیگر علاقوں میں سیول کرفیوں جیسا سماں تھا،اور نجی گاڑیاں بھی سڑکوں سے دور تھی۔اسلام آباد(اننت ناگ) سے نامہ نگار ملک عبدالسلام نے بتایا کہ ضلع کے بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل، سریگفورہ،دیلگام،مٹن،سیر ہمدان،کوکر ناگ،وائل سمیت دیگر علاقوں میں مثالی ہڑتال دیکھنے کو ملی۔ڈورو ،ویری ناگ ،قاضی گنڈ اورکوکر ناگ میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران تمام دکانیں بند رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا ۔شوپیاں کے وچی،امام صاحب، اور پلوامہ میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے زندگی کی رفتار تھم گئی ۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈی پورہ ضلع بھر میں مکمل طور پر ہڑتال رہی ۔ اجس، حاجن نائدکھے، صدر کوٹ، پتوشی ،بانڈی پورہ بازار، نسو، پاپچھن، کلوسہ، وٹہ پورہ ،آلوسہ، اشٹنگو اور کہنو سہ میں بھی پرامن بند رہا ہے۔بارہمولہ اور کپوارہ میں ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی پوری طرح سے مفلوج رہا جس کے دوران تمام کاروباری اور عوامی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں۔اس دوران حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے بدھ کو انکی رہائش گاہ واقعہ نگین میں ایک پرس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس دوران صحافی میر میرواعظ کی رہائش گاہ واقع نگین کے باہر پہنچے تھے تاہم پولیس نے اْنہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی ۔

بانہال

ضلع رام بن کی تحصیل بانہال اور تحصیل کھڑی میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے معمول کی زندگی مکمل طور سے ٹھپ رہی اور 
شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال سنسان رہا۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بدھ اور جمعرات کیلئے دو روز ہ ہڑتال کی کال دی ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے کھڑی، آپنچلہ ،بانہال اور اس کے مضافاتی علاقوں میں تمام دکانیں ، کاروباری ادارے بند رہے جبکہ بنکوں اور بیشتر سرکاری دفاتر میں بھی معمول کا کام کاج ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ ہڑتال کی وجہ سے مقامی ٹریفک بھی بند تھا۔