مرکزکوبامقصد بات چیت کیلئے دروازہ کھولناہوگا: سوز

 
 سرینگر//سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ آج نہیں تو کل مرکزی سرکار کو کشمیر کی بے چینی کو سمجھ کر اس کا ازالہ کرنے کیلئے ایک بامقصد بات چیت کیلئے دروازہ کھولنا پڑے گاانہوں نے ’’وزیر اعظم مودی کی طرح وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی کشمیر میں آکر کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے یہ اندازہ ہو کہ اُن کو کشمیر کے لوگوں خصوصاً یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ کوئی درد مندی ہے اور وہ یہاں کے لوگوں کی پریشانی خصوصاً نوجوانوں کے ذہن میں موجود بے چینی کو پہنچانتے ہیں‘‘۔ پروفیسر سوز نے کہا’راج ناتھ سنگھ آئے اور یہاں سرکاری تقاریب میں انہوں نے گفتگو بھی کی اور جو کچھ سرکاری محل و قوع میں کہناچاہئے تھا وہ کہہ دیا ۔اُن کی تقاریر سے ریاستی مخلوط سرکار میں شامل لوگ تھوڑی دیر کیلئے ایسا بتانے لگے ہیں کہ جیسے راج ناتھ سنگھ جی نے ایسی با ت کہی ہو جس سے کشمیر میں ایک بامقصد اور فیصلہ کن بات چیت کا دروازہ کھل سکتا ہے‘۔ ان کا کہناتھا ’اگر کوئی ایسی بات ہے جس پر حریت کانفرنس کے ترجمان سہ رکنی مزاحمتی قیادت مطمئن ہو سکے تو بامقصد مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں ۔وہ بات گٹھ جوڑ میں شامل دونوں جماعتوں کو کھل کے عوام کے سامنے رکھنی چاہئے‘۔سوز نے اپنے بیان میں مزید کہا ’میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ مجھے اُن کے بیانات کے سے کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی،مجھے اس بات کا علم ہے اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج نہیں تو کل مرکزی سرکار کو کشمیر کی بے چینی کو سمجھ کر اس کا ازالہ کرنے کیلئے ایک بامقصد بات چیت کیلئے دروازہ کھولنا پڑے گا۔‘پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ ایجنسیوں کا حسب دستور یہی خیال ہے کہ آج نہیں تو کل کشمیر میں مزاحمتی تحریک فورسز کی کارکردگی سے ختم ہو گی اور وہ حسب دستور اپنی مد د سے معمول کے مطابق زندگی رواں دواں کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ایجنسیوں کا یہ بھی پختہ خیال ہے کہ گولی باری کے ذریعے کشمیر میں امن کو بحال کیا جا سکتا ہے اور فی الحال وہ مذاکرات کار دنیشور شرماء کے ذریعے کچھ رابطہ تو قائم کر ہی سکتے ہیں!۔انہوں نے کہا’مگر مجھے یقین ہے کہ مرکزی سرکار کو ایک نہ ایک دن کشمیر میں ایک فیصلہ کن بات چیت کیلئے تیار ہونا پڑے بلکہ پاکستان کے ساتھ بھی ایک بامقصد بات چیت کیلئے کمر بستہ ہونا پڑے گا‘۔