’ مذہبی منافرت پھیلانے والوں پر لگام کسی جائے‘

سرینگر//کٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کے معاملے میں بھاجپا وزراء کے رول کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جن دو وزراء نے دفعہ144کے باوجود متاثرہ علاقے میں ملوثین کے حق میں منعقدہ ریلی میں شرکت کی اور خطاب کرکے لوگوں کے جذبات اُبھارے اور اب جس طرح سے ان مستعفی وزراء ملزمین کے حق میں ریلیاں نکالنا شروع کردیاہے،اُس نے بہت سارے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ مخصوص بھاجپا اراکین اس کیس کی منتقلی اور ملزمین کے حق میں ریلیاں کیوں نکال رہے ہیں اور اس بات کو بھی عوام کے سامنے رکھا جائے کہ کٹھوعہ بار سے وابستہ وکلاء نے کس کے کہنے پر کرائم برانچ کو عدالت میں چالان پیش کرنے سے روکا۔ جموں میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے متاثرہ معصومہ کے والدین کو بنا دیر کئے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو عناصر انصاف کی فراہمی میں اڑچنیں پیدا کررہے ہیں وہ ریاست کے آپسی بھائی چارہ، وحدت اور مذہبی ہم آہنگی کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح جموں کے عوام نے ان عناصر کی مذموم سازشوں کو ناکام بنایا وہ قابل سراہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھاجپا ارکانِ اسمبلی اس انسانیت سوز اور شرمناک سانحہ کو مذہبی رنگت دینے کی کوششیں کررہے ہیں اور ملزمین کے حق میں کھلے عام ریلیاں نکال رہے ہیں ، اس کیس میں اُن کے رول کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم اس کیس میں انصاف کی مانگ کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب اُن کی جماعت(بھاجپا) انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیںاور یہاں مذہبی منافرت پھیلانے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کٹھوعہ سانحہ کو مذہبی رنگت دیکر آپسی بھائی چارے کر زک پہنچانے کی کوششیں کرنے والوں کی فوری طور پر لگام کسی جائے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ آر ایس ایس کی پشت پناہی والی حکومت کے قیام کے بعد ہی ہندوستان میں فرقہ پرستی نے عروج پکڑ لیا اور آج ملک کے 25کروڑ مسلمان عدم تحفظ کے شکار ہیں،جو ملک کی سالمیت اور آزادی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں تمام فرقہ پرست بھگوا جماعتیں مل کر مذہبی منافرت پھیلا رہی ہیں وہ قابل تشویش ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے۔یہ چلن کسی بھی زاوئے سے سود مند نہیں اور اس کے برے نتائج سامنے آنا یقینی ہے۔ اجلاس سے صوبائی سکریٹری جموں حاجی شیخ بشیر احمد، پارٹی لیڈران عبدالغنی تیلی، غلام قادر ملک اور دیگر لیڈران نے بھی خطاب کیا۔