ڈوڈہ //ریاست جموں وکشمیر کی وحدت، انفرادیت ،اجتماعت، مذہبی رواداری اور کشمیریت کو قائم و دائم رکھنے کیلئے اتحاد و اتفاق کی ضرورت کیساتھ ساتھ ایسے عناصر کی مذموم سازشوں کو ناکام بنانا لازمی ہے، جو منقسم سیاست کے ذریعے لوگوں میں مذہبی، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر تفرقہ ڈالنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے سرکردہ لیڈران جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر کشمیر ناصر اسلم وانی، علی محمد ڈار، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، خالد نجیب سہروردی، سجاد کچلو، قیصر جمشید لون،ڈاکٹر بشیر احمد ویری اور سجاد شاہین نے خطہ چناب کے دو روزہ دورے کے دوران متعدد مقامات پر عوامی اجتماعات اور پارٹی کنونشنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ ریاست کی وحدت، انفرادیت اور اجتماعیت کیساتھ ساتھ تینوں خطوں کی یکساں تعمیر و ترقی کی علمبردار رہی ہے اور اسے ریاست کے صدیوں کے بھائی چارہ کی مشعل بردار جماعت کا طرہ امتیاز حاصل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے ہی ریاست میں عوامی حکومت قائم کی ، جس کی بدولت ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کو جمہوری اور آئینی حقوق حاصل ہوئے اور ہمیشہ تینوں خطوں کے ساتھ مساوات اور برابری کا سلوک روا رکھا۔ نیشنل کانفرنس کے دور اقتدار میں ہمیشہ تینوں خطوں اور ہر طبقے کے لوگوں کو نمائندگی دی گئی ۔ پارٹی کے معاون جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مُصطفیٰ کمال نے اپنے خطاب میںکہا کہ ریاست جموں وکشمیر کو شخصی راج کی غلامی سے نجات دلانے کے بعد نیشنل کانفرنس نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں ہر طرف انصاف، مساوات، بھائی چارہ، مذہبی ہم آہنگی ، خوشحالی اور ترقی کا بول بالا رہالیکن موجودہ دور میں ریاست کی بھاگ ڈور ایسے عناصر کے ہاتھوں میں آگئی ہے جو نہ صرف ریاست کے ٹکڑے کرنے پر تلے ہیں بلکہ اس منفرد ریاست کی پہچان، خصوصی پوزیشن اور انفرادیت ختم کرنے میں پیش پیش ہیں اور اس مقصد کے حصول کیلئے جموں و کشمیر کے تینوں خطوں کے عوام میں تفرقہ ڈالا جارہا ہے۔لیڈران نے کہا کہ موجودہ اس نازک موڑ پر نیشنل کانفرنس کو ایک اہم رول ادا کرکے ریاست جموں و کشمیر کی پہچان بچانے، ریاست کے ٹکڑے ہونے اور عوام میں دوریاں بڑھنے کے عمل پر روک لگانی ہے تاکہ ریاست جموں و کشمیر کی وحدت، مذہبی رواداری، کشمیریت اور خصوصی پوزیشن برقرار رہ سکے۔ انہوں نے پارٹی ورکروں اور کارکنوں سے تاکید کی کہ وہ گھر گھر جاکر عوام کو دشمنوں کے عزائم سے واقف کرائیں اور عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کا ماحول آج کل برپا کیا جارہا ہے وہ ریاست کے صدیوں کے بھائی چارہ ،مذہبی ہم آہنگی اور خصوصی پوزیشن کو پارہ پارہ کرنے کی ایک بدترین کوشش ہے اور موجودہ دور میں ریاست کے عوام کو بلا لحاظ مذہب و ملت اور رنگ و نسل ایک ہوکر فرقہ پرست اور سازشی عناصر کے مذموم ارادوں کو خاک میں ملانے کیلئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحد کشمیر کے لوگوں پر کسی وقت مغل، افغان ،سکھ اور ڈوگرہ حکمرانوں نے حکومت کرکے یہاں کے لوگوں پر ظلم و ستم ڈھائے تھے لیکن باغیرت اور باغیور کشمیری قوم نے ان کی حکمرانی کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔