محکمہ بجلی کا معذور عارضی ملازم بے یارومددگار | 17برسوں سے ریگولرائزیشن کا منتظر، ہاتھوں سے بھی محروم ہو گیا

راجوری//راجوری ضلع کے جواہر نگر میں 2ماہ قبل بجلی کی لپیٹ میں آنے والا عارضی ملازم محمد سلیم ولد عبدالعزیز گزشتہ 17برسوں سے ریگولرائزیشن کا منتظر ہے لیکن اب وہ محکمہ کے تئیں نیک نیت سے کام کرنے کے دوران اپنے دونوں ہاتھوں سے بھی محروم ہو گیا ہے ۔ جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ میں یومیہ اجرت پر خدمات انجام دے رہا تھا اور بجلی کی زد میں آکر اپنے دونوں بازو کھو جانے کے بعد بے بسی کی حالت میں ہے جبکہ سلیم جس کی بیوی کے علاوہ دو جوان بیٹے اور ایک بیٹی ہے، راجوری شہر کے جواہر نگرتھوڈی علاقے میں اپنے نیم کچے مکان میںرہائش پذیر ہے ۔عارضی ملازم محمد سلیم نے بتایا کہ ’’میں گزشتہ سترہ سالوں سے بجلی کے محکمے میں یومیہ اجرت پر خدمات انجام دے رہا ہوں اور اس وقت6750روپے ماہانہ تنخواہ وصول کررہا ہوں ‘‘۔انہوں نے بتایا کہ رواں برس 23 جنوری کے دنصبح تقریباً 5بجے انہیں اپنے محکمہ کے سینئر افسران کا فون آیا کہ جواہر نگر علاقے کے پاور فیڈرز میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بجلی بند ہے۔معذور ہوئے عارضی ملازم نے بتایا کہ بجلی بحالی کے مقصد سے آنے والی فون کال کے بعد وہ اور دیگرفیلڈ ملازم خرابی والے مقام پر پہنچ گئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس دن اس نے کئی گھنٹے کام کیا اور صبح 11 بجے کے قریب وہ تاروں کو سیدھا کرنے کیلئے بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا جب اسے بجلی کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ کام کی نگرانی کرنے والے سینئر افسران پاور اسٹیشن سے بجلی بند کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’بجلی کے کھمبے پر چڑھنے کے فوراً بعد مجھے بجلی کا زوردار جھٹکا لگا اور میں بے ہوش ہو گیا‘‘۔ سلیم نے مزید کہا کہ وہ چھ دن کے وقفے کے بعد ہوش میں آئے جب ان کا امرتسر کے ایک نجی اسپتال میں آپریشن کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ’’میں اپنے دونوں بازو کھو چکا ہوں کیونکہ ڈاکٹروں نے میری جان بچانے کیلئے ان کو کاٹ دیا تھاجس کے بعد سے وہ بے بسی کی حالت میں ہیں ۔معذور ہوئے عارضی ملازم نے بے بسی کی حالت میں کہا کہ ’’میری حالت سے آپ آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں پہلے جیسا کبھی نہیں ہوسکتا اور باقی زندگی بے بسی کی حالت میں گزارنی پڑے گی‘‘۔ متاثرہ نے مزید بتایا کہ ضلع انتظامیہ، محکمہ کے ملازمین اور کچھ تنظیموںوعلاقے کے لوگوں کی امداد کے علاوہ حکومت نے اس کے علاج اور مدد کیلئے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ ’’میں جموں اور کشمیر کی حکومت سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ میری خدمات کو باقاعدہ بنائے تاکہ میں اپنے خاندان کا صحیح طریقے سے پیٹ پال سکوں یا اپنے دو بے روزگار بیٹوں کو روزگار فراہم کر سکوں تاکہ وہ ہماری مناسب دیکھ بھال کر سکیں‘‘۔ایگزیکٹیو انجینئر جے پی ڈی سی ایل راجوری ڈویژن محمد حسن نے کہا کہ متاثرہ کے بیٹے میں سے ایک کو خصوصی بنیادوں پر ملازمت کی فراہمی کیلئے ایک فائل مزید کارروائی کیلئے حکومت کو بھیجی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر راجوری وکاس کنڈل نے کہا کہ’’ ہم نے متاثرہ خاندان کو اس کے علاج کیلئے ایک لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی ہے جبکہ متاثرہ کے کنبہ کے ایک فرد کو مشن یوتھ کے تحت فائدہ فراہم کرنے کے معاملے پر کام کیا جارہا ہے ۔