سرینگر //محنت کشوں کے عالمی دن کے موقعہ پر ملک کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں کوئی بھی تقریب منعقد نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی جگہ کوئی سمینار ہوا، البتہ سابق لیڈران سمیت انتظامیہ کے کچھ ایک افسران نے سوشل میڈیا کے ذریعے مزدوں کو اس دن کے موقعہ پر مبارک باد پیش کی ۔دنیا بھر کا محنت کش طبقہ اس وقت کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متاثر ہو ا ہے۔ جموں وکشمیر کی اگر بات کریں تو یہاں کا محنت کش طبقہ 5اگست2019 سے لگاتارمتاثر ہورہاہے۔2019میں چھ ماہ کے گرفیوں کے قیمتی ایام ہاتھ سے نکل گئے اور وہ مزید غریبی کی دلدل میں چلے گئے۔رہی سہی کسر مارچ 2020میں پھیلنے والی عالمی وبا نے انہیں گھروں میں ہی محصور کر کے پوری کردی اور اب نئے سال کی آمد کیساتھ ہی انکے لئے مصیبتوں کے پہاڑ کھڑے ہوگئے۔جموں وکشمیر میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 15لاکھ مزدور ہیں جو روزانہ مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ ان میں سے 9لاکھ کنسٹرکشن کمپنیوں کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر لیبر بورڈ میں اس وقت صرف 4لاکھ مزدور رجسٹرڈ ہیں اور محکمہ نے ان رجسٹرڈ مزدوروں میں سے صرف نصف کو ہی 3ماہ کیلئے ماہانہ ایک ایک ہزار روپے فراہم کئے ہیں، جو اس مہنگائی کے دور میں ان کیلئے کچھ معنی نہیں رکھتے ۔معلوم رہے کہ محکمہ لیبر کے سابق کمشنر سکریٹری سوربھ بھگت نے کورونا لاک ڈائون کے دوران ہی مزدوروں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنی اپنی رجسٹریشن کرائیں ،اس کے بعد ہر ضلع میں افسران کو رجسٹریشن کرنے کیلئے بھی کہا گیا تھا ۔ذرائع نے بتایا کہ ابھی بھی لاکھوں مزدور ایسے ہیں جو لیبر بورڈ میں درج نہیں ہیں ،ایسے مزدوروں کو اُمید تھی کہ کٹھن موسم سرما گزرنے کے بعد جموں وکشمیر میں پھر سے تعمیراتی کام شروع ہوں گے اور ان کا روزگار چل پڑے گا لیکن صرف جنوری، فروی اور مارچ میں کام کرنے کے بعد ان پر کورونا کی دوسری لہر کی آفت ٹوٹ پڑی۔ آج ہر ایک مزدور گھر میں ہے اور اس کو فکر صرف اتنی ہے کہ اب اس کے روزگار کا کیا ہو گا، اس کے گھر کا چولہاکیسے جلے گا ،کوئی مالی مدد دے گا یا نہیں ۔ایسا ہی حال یہاں کے سیلز مینوں ، شالبافافی سے وابستہ کاریگروں و مزدوروں،نریگا سکیم کے تحت کام کر رہے مزدوروں، ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں ، سیاحت سے وابستہ افراد سمیت دیگر محنت کشوں کا بھی ہے ،جو گھروں میں محصور ہیں اور کورونا وبا کے خاتمے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن دھیاڑی دار محنت کش اور مزدوروں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔جموں وکشمیر میں پہلے ہی 13لاکھ کنبے غریبی سے سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کر رہے ہیں اور ان کنبوں کے افراد محنت مزدوری کر کے اپنے عیال کا پیٹ پالتے تھے ۔کئی ایک مزدوروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پہلے کورونا لاک ڈائون میں انہوں نے فاقے کاٹے لیکن اب اگر لاک ڈائون مزید بڑھ جاتا ہے تو پھر وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ وہ جو دن میں کماتے تھے وہی کھاتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ اس دن کی مناسبت سے مزدوروں اور محنت کشوں کیلئے ایک پالیسی بنائی جانی چاہئے تاکہ یہاں کا مزدور فاقے سے نہ مر جائے کیونکہ محنت کش طبقہ کیلئے زندگی ایک ڈراونا خوب بن گئی ہے اور غربت میں اضافہ ہو گیا ہے ۔