محبوبہ جنوبی کشمیر سے اُمیدوار

سرینگر سے آغا محسن کو پی ڈی پی کا منڈیٹ

 
سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پارلیمانی انتخاب کے میدان میں کود پڑی ہے،جبکہ وسطی کشمیر سے شعیہ لیڈر آغا محسن پی ڈی پی کے امیدوار ہونگے،تاہم سابق حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ جموں کی2نشستوں پر ووٹوں کی تقسیم روکنے کیلئے پارٹی کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں کریگی۔ واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس نے بھی جموں کی دو نشستوں پر کانگریس امیدواروں کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنیکا فیصلہ کیا ہوا ہے، جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ وادی میں وہ این سی کیساتھ دوستانہ مقابلہ کریں گے۔محبوبہ مفتی نے سرکاری رہائش گاہ واقع گپکار روڑ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اننت ناگ حلقہ انتخاب سے چنائو لڑیں گی جبکہ آغا محسن سرینگر سے پارٹی امیدوار ہونگے۔ یاد رہے بارہمولہ سے پارٹی امیدوار عبدالقیوم وانی نے پہلے ہی اپنے نامزدگی فارم جمع کرائیں ہیں۔انہوں نے کہا پارٹی نے فیصلہ کیاہے کہ جموں اورادھمپور کے 2 پارلیمانی حلقوں سے عوامی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے انکی جماعت کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھا’’ہم نہیں چاہتے کہ ووٹ تقسیم ہو،اور اس سے وہ لوگ کامیاب ہوں،جو سیکولر طاقتوں کے علاوہ ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ لداخ پارلیمانی حلقہ انتخاب کے بارے میں عنقریب فیصلہ لیا جائے گا۔ لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد کرنے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیریوں کو ایک مرتبہ پھر انتخابات کے پیش نظر’’ بلی کا بکرا‘‘ بنانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا’’ جمہوریت میں خیالات کی جنگ ہوتی ہے،اور اس طرح کی چیزیں نہیں ہونی چاہے،جبکہ ہر ایک آواز کا مقابلہ ظلم و جبر کے برعکس سیاسی طور پر کیا جانا چاہے‘‘۔پی ڈی پی سربراہ نے مزید کہا کہ لوگوں کو یہاں تشدد اورپشت از دیوارکیا جا رہا ہے اور فوری طور پر اس کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔‘‘