ماہ صیام میں فائر بندی کی اپیل

  جماعت اور فرنٹ پر پابندی،شاہراہ پر بندشیں،آر پار تجارت بند کرنا اعلان جنگ

 
سرینگر//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے  مرکزی سرکار اور جنگجوئوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں فائر بندی کا اعلان کریں۔محبوبہ مفتی نے سرکاری رہائش گاہ فیئر ویو گپکار پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان ایک مقدس اور عبادات کا مہینہ ہے،اس لئے گزشتہ برس کی طرز پر اس بار بھی’’ مرکزی حکومت کو جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ماہ مقدس کے دوران فورسز اور سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے کئے جانے والے کریک ڈائونوں،آپریشنوں اور تلاشیوں و محاصروں کو روک دینے کی ضرورت ہے،تاکہ لوگ آرام کے ساتھ مساجد میں آ جا سکیں۔ محبوبہ مفتی نے جنگجوئوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس ماہ کے دوران اپنی کارروائیاں بند کریں۔انہوں نے کہا’’یہ عبادات کا مہینہ ہے،جنگجوئوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی کارروائیاں اس ماہ بند کریں‘‘۔پی ڈی پی صدر نے وزیر اعظم ہند نریند مودی سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر انکا دعویٰ یہ ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپائی کی کشمیریت،انسانیت اور جمہوریت کی پالیسی کا تعاقب کر رہے ہیں،تو انہیں چاہیے کہ جموں کشمیر میں ماہ رمضان کے دوران جنگ بندی کا اعلان کریں،تاکہ اس ماہ میں خون خرابہ بند ہوسکے۔ ریاست میں سیاسی و معاشی مکانیت مسدود کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا’’ شاہراہ پر قدغن سے میوہ تاجروں اور گاڑی مالکان کو نقصانات ہو رہے ہیں‘‘۔کشمیر کو میدان جنگ میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکومت ہند اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا’’جماعت اسلامی اور لبریشن فرنت پر پابندی،شاہراہ پر بندشیں،آر پار تجارت بند کرنا اور بنک میں چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کے نام پر مداخلت‘‘ اصل میں ریاستی عوام کے خلاف محاذ کھولنے کی عکاسی ہے۔ حکومت ہند پرجنگجویت سے نپٹنے کی آڑ میں کشمیریوں کی کمر توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’الیکشن کے بیچ ہزاروں نوجوانوں کو سنگبازہونے کے نام پر گرفتار کیا گیا،اور اس صورتحال میں وہ(مرکز) لوگوں کو کس طرح اپنے ساتھ چلائے گا‘‘۔محبوبہ مفتی نے کہا ‘‘جہاں ایک ناکہ ہونا چاہیے،وہاں10ناکے لگائے گئے ہیں اور حکومت ہند نے عام لوگوں کی زندگی کو جہنم زار بنا دیا ہے‘‘۔انہوں نے مرکز کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں ریاست کو اپنے ساتھ رکھنا ہے تو ریاستی عوام کے جذبات اور احساست کی قدر کرنی چاہیے اور انہیں عزت دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 35اے اور دفعہ370کے خلاف بیان بازی اصل میں کشمیری عوام کو پشت از دیوار کرنے کی کوشش ہے،جس سے عوام میں پہلے سے موجوداحساس تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا۔محبوبہ مفتی نے جموں میں گجر اور بکروالوں کو ہراساں کرنے کے عمل پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’ گجر اور بکروالوں کو جموں میں غنڈے ستارہے ہیں،جس کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شوپیاں میں گزشتہ روز فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ کے بعد انتخابی عمل کی شرح ضرور اثر انداز ہوگی۔