مارچ میں پارہ27.6ڈگری تک جا پہنچا | اپریل اور مئی میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان

سرینگر //مارچ کے مہینے میں دن کے درجہ حرارت میں شدت کی گرمی کے بیچ ،محکمہ موسمیات نے اپریل اور مئی کے مہینے میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں سال جموں میں گرمی کا 76سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ کشمیر میں مئی کی گرمی قبل از وقت یعنی مارچ میں ہی ریکارڈ کی گئی اور سرینگر میں درجہ حرارت 27ڈگری سلسیش سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ۔مارچ میں صرف 1دن ہی بارش ہوئی ہے جبکہ باقی پورا مہینہ خشک رہا ۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں پہلے ہفتے کے دوران صرف 3اپریل کو ہلکی بارشیں ہونے کا امکان ہے اور یہ بارشیں بھی پہاڑی علاقوں میں ہوں گی جس سے درجہ حرارت میں معمولی بہتری آئے گی البتہ اپریل اور مئی میں بھی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گا اور اس میں کمی کا کوئی بھی امکان نظر نہیں آرہا ہے ۔انہوں نے مزیدبتایا کہ مارچ کے مہینے میں عموماً بارشیں ہوتی ہیں اور درجہ حرارت  20سے 22ڈگری تک بڑھ جاتا ہے لیکن رواں سال اس میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہوا اور درجہ حرارت 27ڈگری سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق 15مارچ کے بعدسرینگر میں دن کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا ۔15مارچ کو سرینگر میںدرجہ حرارت 24.5ڈگری رہا۔ 16مارچ کو 23.8، 17مارچ کو 25.4، 18مارچ کو 26.6 ،19مارچ کو 27.2، 20مارچ کو معمولی بارشیں ہوئیں ۔21مارچ کو 20.8 ،22مارچ کو 23.3، 23مارچ کو 23.3، 24مارچ کو 25.6، 25مارچ کو 18.6 ،26مارچ کو 22.3، 27مارچ کو24.4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا  ۔اس طرح 28مارچ کو جموں میں 76برس بعد زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37ڈگری جا پہنچا  جبکہ اس سے قبل وہاں پر 1945میں مارچ کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37.2ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 25.0ڈگری تک جا پہنچا تھا ۔29مارچ کو سرینگر میں 27.4، 30مارچ کو 27.6ڈگری اور31مارچ کو سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26.5ڈگری تک جا پہنچا  ۔محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر مختار احمد نے بتایا کہ اگلے ایک ہفتے تک موسم خشک رہے گا صرف 3اپریل کو وادی کے چند ایک پہاڑی علاقوں میں ہلکی بارشیں ہو سکتی ہیں ۔