ماحولیات کو بہتر بنانے کے حوالے سے جموںوکشمیر کو ایک ماڈل بنانے کی ضرورت پر زور

جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جموںوکشمیر کے لئے ریڈ پلس ایکشن کے تحت جموںوکشمیر فارسٹ اور دیگر محکموں کی استعداد کار بڑھانے کی خاطر دو روزہ ورکشاپ کے افتتاحی سیشن کی صدارت کی۔موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن ( یو این ایف سی سی سی ) کے ریڈ پلس میکانزم کا مقصد جنگلات کی بنیاد پر موسمیاتی تبدیلی کی تخفیفی سرگرمیوں کے لئے مالی ترغیب فراہم کرنا ہے جس میں جنگلات کے انحطاط سے کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور تحفظ سے کار بن سٹا ک میں اضافہ ، جنگلات کا پائیدار اِنتظام اور جنگل کار بن سٹاک میں اضافہ شامل ہیں۔اِس پروگرام کا اہتمام جموںوکشمیر محکمہ جنگلات اور ہمالین فارسٹ ریسر چ انسٹی چیوٹ شملہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔اِس موقعہ پرکمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات سنجیو ورما مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔اَپنے خطاب میں ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کہا کہ جموںوکشمیر حالیہ برسوں میں ہندوستانی ریاستوں میں ایک رہنما کے طور پر اُبھرا ہے ۔ اُنہوں نے کہا ،’’ ہم اِی ۔ آفس پہل میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ہم نے کووِڈ تخفیفی اور مینجمنٹ میں ایک غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ماحولیات کو بہتر بنانے کے حوالے سے جموںوکشمیر کو ایک برس کے اندر ایک ماڈل بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔اُنہوں نے اِس طرح کے اِقدامات کو فنڈس کے اِنضمام سے فنڈ دینے پر بھی زوردیا۔اُنہوں نے اِس بات پر خوشی کا اِظہار کیا کہ مرکزی حکومت کی رِپورٹ 2021ء کے مطابق جموںوکشمیر یوٹی میں فی یونٹ رقبہ سب سے زیادہ کار بن کا ذخیرہ ہے جو کہ جموںوکشمیر جنگلات میں زیادہ سے زیادہ بائیو ماس اور اچھی مٹی کی نشاندہی کرتا ہے ۔ جموں وکشمیر ملک میں سب سے زیادہ متنوع 42قسم کے جنگلات رکھتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ورکشاپ کو ایک ماڈل پروجیکٹ کو فعال کرنے کے قابل ہونا چاہئے جو سادہ اور عملی ہو جس میںکنورجنس ، معاش پیدا کرنے اور بنیادی سطح کے پروگرام شامل ہیں ۔ اُنہوں نے اِس بات پر بھی اطمینان کا اِظہار کیا کہ جنگلات اور تحفظ کے مینڈیٹ سے محکمہ جنگلات اَب نچلی سطح کے اداروں جیسے دیہی پنچایتوں اور حیاتیاتی تنوع کی اِنتظامی کمیٹیوں کو فعال طور پر شامل کر رہا ہے ۔ اُنہوں نے ’’ وَن بیٹ گارڈ ، وَن وِلیج ‘‘ پروگرام کے نئے اِقدامات اور محکمہ جنگلات کی جانب سے ’’ ہر گائو ںہریالی‘‘ اور ’’ وَن سے جل ، جل سے زندگی ‘‘ مہم کی بھی تعریف کی۔ اُنہوں نے ایچ ایف آر آئی اور جموںوکشمیر محکمہ جنگلات کو اِ س صلاحیت سازی ورکشاپ کے اِنعقاد پر مبارک باد دی اور اُنہوں نے کہاکہ یہ جنگل ہی ہے جس سے جموں وکشمیرکی خوب ترقی ہوگی ۔چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا نے بدلتی ہوئی آب و ہوا کی وجہ سے اِنسانیت کو درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی ۔اُنہوں نے انواع کے معدوم ہونے اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کی شرح پر تشویش کا اِظہار کیا۔اُنہوں نے بنیادی سیکٹر زراعت ، باغبانی ، اینمل ہسبنڈری اور موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے کے لئے جنگلاتی امکانات اور ماحولیاتی توازن ، ماحولیاتی استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے میں اس کے کردار پر بات کی۔چیف سیکرٹری نے ان کے کام کو سراہتے ہوئے محکمہ جنگلات کے ملازمین پر زور دیا کہ وہ جنگلاتی ماحولیات اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے اَپنا کام جوش و خروش سے کریں ۔ اُنہوں نے اُنہیں اَپنی صلاحیتوں کو اَپ ڈیٹ کرنے کے لئے تربیت دینے کا بھی مشور ہ دیا۔اُنہوں نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ نباتا ت اور حیوانات کے بڑے پیمانے پر ناپید ہونے کو روکنے کے لئے ٹھوس کوششیں کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 2015 ء کے پیرس موسمیاتی معاہدے کے تحت رضاکارانہ اہداف کا تعین کیا ہے اور اُنہوں نے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے اُنہیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔اُنہوں نے ہرگائوں ہریالی اور اس طرح دیگر پروگراموں کے تحت کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔کمشنر سیکرٹری نے چیف سیکرٹری کے ذریعہ جموںوکشمیر میں سولر اَنرجی کے یونٹوں کی تنصیب اور الیکٹرک بسوں کو متعارف کرنے جیسے مختلف اقدامات کی ستائش کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کی "ہریالی" میں مسلسل کوششیں کرنے پر زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ماہرین اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مؤثر طریقے تلاش کریں۔پی سی سی ایف ڈاکٹر موہت گیرا نے پیرس معاہدے کے تحت طے شدہ عالمی آب و ہوا کے اہداف کو حاصل کرنے میں ہندوستان کے کردار پر روشنی ڈالی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر کا محکمہ جنگلات کئی پروگراموں اور سکیموں کو عملارہا ہے جس سے ریڈ پلس کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔اُنہوں نے جموں وکشمیر کے ریڈ پلس ایکشن پلان کی تیاری کے لئے جموں وکشمیر کے محکمہ جنگلات کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے ایچ ایف آر آئی کا شکریہ ادا کیا جو جموںوکشمیر یوٹی میں ریڈ پلس سرگرمیوں کو عملانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ڈائریکٹر ہمالین فارسٹ ریسرچ اِنسٹی چیوٹ ڈاکٹر ایس ایس سمنت نے قومی اور ریاستی سطح پر ریڈ پلس فریم ورک کی عمل آوری کے لئے کونسل کی طرف سے کی جارہی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کونسل نے پہلے ہی میزورم، اُتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور سکم کی ریاستوں کے لئے ریاستی ریڈ پلس ایکشن پلان تیار کیا ہے۔اس پروگرام میں چیئرمین جموںوکشمیر پولیوشن کنٹرول بورڈ ڈاکٹر نیلو گیرا ، مختلف محکموں کے سربراہان اور محکمہ جنگلات کے افسران نے بھی شرکت کی۔