لکھیم پور کھیری تشدد واقعہ

 مئی دہلی //اکتوبر 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے تقریباً 5000 صفحات پر مبنی چارج شیٹ داخل کی ہے، اس معاملے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کو اہم ملزم بنایا گیا ہے۔ انھیں اس معاملے میں پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں ملزمین کی تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے، کیونکہ مزید ایک نام جوڑا گیا ہے۔ وکیل استغاثہ نے کہا کہ ’’مزید ایک شخص ویریندر شکلا کا نام فرد جرم میں جوڑا گیا ہے۔ اس پر تعزیرات ہند کی دفعہ 201 کے تحت الزام لگایا گیا ہے۔‘‘لکھیم پور کھیری تشدد واقعہ میں مجموعی طور پر 8 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ مہلوکین میں چار کسان، ایک صحافی، دو بی جے پی کارکن اور ایک ڈرائیور شامل ہیں۔ اس معاملے میں آشیش مشرا اور سابق مرکزی وزیر اکھلیش داس کے بھتیجے انکت داس سمیت کل 13 لوگ ملزم ہیں۔ تینوں ایس یو وی کے ڈرائیور اور مشرا کے علاوہ داس کے معاونین سمیت سبھی 13 ملزمین گرفتار ہیں اور فی الحال لکھیم پور کھیری جیل میں بند ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے آشیش مشرا کی ضمانت عرضی پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ دیگر ملزمین کی ضمانت عرضیاں لکھیم پور کھیری کی ایک مقامی عدالت میں زیر التوا ہیں۔ایس آئی ٹی نے حال ہی میں ایک مقامی عدالت سے آشیش مشرا اور 12 دیگر ملزمین کے خلاف قتل کی کوشش اور قصداً سنگین چوٹ پہنچانے کے معاملے میں دو ملزم جوڑنے کی گزارش کی تھی۔ عدالت نے ایس آئی ٹی کی عرضی کو منظور کر لیا تھا اور اسلحہ ایکٹ کی دفعات سمیت ملزمین کو جوڑنے کا حکم دیا تھا۔ ایس آئی ٹی نے عدالت کو سونپی گئی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ چار کسان اور ایک صحافی منصوبہ بند سازش کے تحت تشدد میں مارے گئے۔