لڑکیوں کو گرفتار کرنا ناقابل برداشت :ملک

سرینگر // لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ دو بہنوںتنفیہ رسول اور سمیرہ رسول کی گرفتاری اور انہیں پولیس لاک اپ میں مقید رکھنا صریحاً پولیس تشددہے۔یاسین ملک نے اننت ناگ سے آئے ہوئے ایک عوامی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ سپرانٹنڈنٹ پولیس نے ظلم و جبر اور بے شرمی کی ساری حدیں پھلانگ دی ہیں ۔یاسین ملک نے الزام عائد کیا کہ اس پولیس آفیسر نے ضلع میں پردہ کرنے والی لڑکیوں اور خواتین کے خلاف خاص طور پر مہم چھیڑ رکھی ہے ۔ خواتین اور بچیوں کو پولیس تھانوں پر بلا کر اپنے سامنے پیش ہونے پر مجبور کرنا اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے بدلے ان کے والدین کو گرفتار کرنا، انہیں تعذیب و تحقیر آمیز سلوک کا نشانہ بنانا اور انہیں قبیح گالیوں سے نوازنا اس آفیسر کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔وفد نے یاسین ملک کو بتایا کہ پولیس نے یہاں سے دو جوان سال بہنوں تنفیہ رسول اور سمیرہ رسول کو گرفتار کررکھا ہے اور انہیں تھانہ صدر اسلام آباد میں مقید رکھا گیا ہے جبکہ کئی دوسری باپردہ عفت ماب بچیوں کو بھی حاضر کرنے کیلئے ان کے والدین پر دبائو ڈالا جارہا ہے۔وفد نے بتایا کہ پولیس کا خاص ہدف کشمیریونیورسٹی میں زیر تعلیم باپردہ بچیاں ہیں اور ان کے گھروں پر آئے روز چھاپے ڈال کر ان کے والدین کی تذلیل و تحقیر کی جارہی ہے۔یاسین ملک نے کہا کہ پولیس کا یہ جابرانہ رویہ ناقابل برداشت ہے اور اگر پولیس نے فی الفور اس قبیح عمل کو نہیں روکا تو کشمیریوں کے پاس اس کے خلاف ایک منظم اور بھرپور ایجی ٹیشن چلانے کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار نہیں ہوگا۔