’لوگ کشمیر آئیں، حفاظت کی ذمہ داری سرکارکی‘ | حیدر پورہ میں اگر کوئی بے گناہ مارا گیا ہے تو انصاف ہوگا: لیفٹیننٹ گورنر

نئی دہلی// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے  کہ ہے کہ جموں کشمیر میں صورتحال پر امن ہے اور کوئی خوف کے سائے نہیں۔مہاجر مزدوروں کی ہلاکت کے بعد سیکورٹی کی موجودہ صورتحال پر ایک سوال کے جواب میں منوج سنہا نے کہا، ''میں قوم کو یقین دلا رہا ہوں کہ آپ یہاں آئیں،آپ کا یہاں استقبال ہے، آپ کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے‘‘۔منوج سنہا انڈیا ٹوڈے لیڈر شپ سمٹ میں تقریر کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی آٹھ سالوں کی سیاحوں کی آمد کا موازنہ کرے تو اس میں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی میں 10.50 لاکھ سیاح جموں و کشمیر آئے۔ اگست میں یہ تعداد بڑھ کر 11.28 لاکھ ہو گئی۔ ستمبر میں اس نے 12 لاکھ کو عبور کیا اور نومبر میں 13.46 لاکھ سیاحوں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔ سری نگر پہنچنے والی پروازوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ہوٹل کی بکنگ میں اضافہ ہوا ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ کیا کشمیر بندوق کی نوک پر ہے؟،کیا فوج کی تعیناتی میں کوئی اضافہ ہوا ہے؟ فوج کی تعیناتی میں اضافہ نہیں ہوا۔ اگر جموں و کشمیر میںکوئی قتل ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ حکومت سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔انکا کہنا تھا"اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم ان جگہوں کو محفوظ بنائیں گے جہاں فورسز کا غلبہ نہیں تھا اور جو دہشت گردی کو آکسیجن  فراہم کرتی تھیں، تو کیا ہم فورسز کی پانچ کمپنیاں مانگ کر جرم کر رہے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ"میں یقین دلاتا ہوں کہ نہ تو فورسز اور نہ ہی جموں و کشمیر پولیس کو کسی بے گناہ کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ اور، اگر کچھ ہوتا ہے، تو ان لوگوں کے خلاف بھی قانون کا استعمال کیا جائے گا۔ میں اسے عوام میں کہہ رہا ہوں‘‘۔حیدر پورہ انکانٹر پر انہوں نے کہا"واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے،اگر کوئی بے گناہ مارا گیا ہے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا‘‘۔کرپشن پر انکا کہنا تھا کہ جہاں انسان ہوں گے وہاں کرپشن ہوگی، ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت آئے گی، ہم اس نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے سوال پر منوج سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم کے پیکیج کا مقصد 6,000 گھر تعمیر کرنا اور ان کے لیے ملازمتیں پیدا کرنا محض ایک آغاز تھا۔یہ ہماری منزل نہیں تھی ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس کے جلد نتائج سامنے آئیں
 گے۔ ابھی نہیں، لیکن تین ماہ میں چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ قوم کو پتہ چل جائے گا کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی ایک حقیقت ہوگی،۔مرکز کس سے بات کرے گا؟۔منوج سنہا نے علیحدگی پسند رہنماں کے ساتھ مرکز کی بات چیت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف وہی لوگ جو ہندوستانی آئین پر یقین رکھتے ہیں جموں و کشمیر میں اسٹیک ہولڈر ہیں۔انہوں نے کہا، "اس سے پہلے، جموں و کشمیر میں امن میں خلل ڈالنے اور علیحدگی پسندی کو ہوا دینے والوں کو خصوصی طیاروں میں اڑا کر طبی علاج فراہم کیا جاتا تھا۔ نرم علیحدگی کے دن ختم ہو چکے ہیں، اب بات صرف ان لوگوں سے ہوگی جو ہندوستانی آئین پر یقین رکھتے ہیں۔