لوگ ذمہ دار اپوزیشن کے رول کے خواہشمند|| سب کو ساتھ لیکر چلیں گے ملک چلانے کیلئے اتفاق رائے ہونا لازمی:مودی

 یو این آئی

نئی دہلی//18ویں لوک سبھا کے پہلے اجلاس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے پیرکے روز زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت اپنی تیسری میعاد میں سب کو ساتھ لے کر چلنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ لوگ نعرے نہیں بلکہ کام چاہتے ہیں۔مودی نے کہا کہ لوگ ایک اچھی اور ذمہ دار اپوزیشن چاہتے ہیں اور کہا کہ ماضی میں اس کا طرز عمل مایوس کن رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس بار اپنا کردار ادا کرے گی اور جمہوری نظام کو برقرار رکھے گی۔وزیر اعظم منتخب ممبران پارلیمنٹ کو مبارکباد دیتے ہوئے ان سب سے عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ حکومت سب کی رضامندی کے ساتھ چلائیں گے، اسلئے انہیں امید ہے کہ اپوزیشن ذمہ داری سے کام کرے گی اور عوامی جذبات پر پورا اترے گی۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مودی نے کہا’’ملک کے 65 کروڑ عوام نے 18ویں لوک سبھا کے نمائندوں کو امنگوں کے ساتھ منتخب کرکے بھیجا ہے۔

 

عوام نے جو اعتماد دکھایا ہے، ہم سب کو مل کر ان کی امنگوں پر کھرا اترنا ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ سب کی رضامندی سے حکومت چلائیں گے اور اپوزیشن جماعتوں سے امید ظاہر کی کہ وہ بھی عوام کی امنگوں کے مطابق کام کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ آج پارلیمانی جمہوریت میں فخر کا دن ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار ہم اپنی بنائی ہوئی پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں حلف لینے جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا’’ترقی یافتہ ہندوستان 1947 جیسے کئی تصورات کو لے کر آج 18ویں لوک سبھا کا آغاز ہورہا ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے انتخابات انتہائی پرامن اور شاندار طریقے سے ہوئے ہیں‘‘۔انہوں نے 2024 کے انتخابات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن اس لیے اہم ہے کہ آزادی کے بعد دوسری بار کسی حکومت کو مسلسل تیسری بار ملک کے عوام نے خدمت کا موقع دیا ہے، عوام نے ہمارے کام پر بھروسہ کیا اور اس پر مہر لگائی ۔‘‘وزیراعظم نے کہا، ’’ملک کو چلانے کے لیے اتفاق رائے ہوتا ہے اور حکومت بنانے کے لیے اکثریت ہوتی ہے اس لیے ہمارا مقصد سب کو ساتھ لے کر اور سب کی رضامندی سے ملک کے عوام کی خدمت کرنا ہے، ملک کے 140 کروڑ عوام کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کرنا ہے، ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، سب کو ساتھ لے کر آئین کی حدود پر عمل کرتے ہوئے ترقی کی رفتار تیز کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملک کے آئین کے لیے وقف ہیں اور ملک کی جمہوری اقدار کے وفادار ہیں ان کے لیے 25 جون ایک ناقابل فراموش تاریخ ہے کیونکہ 25 جون کو ہندوستان کی جمہوریت پر سیاہ دھبہ لگاتھا، اس کے 50 سال مکمل ہو رہے ہیں، ہندوستان کے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے کہ اس دن جمہوریت کو مکمل طور پر دبا دیا گیا تھا، ایمرجنسی ملک کے آئین میں ایک سیاہ دھبہ تھی، ہم عزم کریں گے کہ آئین کے مطابق عام لوگوں کے خوابوں کو پورا کرنا ہے اور اب کوئی دوسری بار کبھی بھی ملک میں دوسری ایمرجنسی نہیں لگاسکے گا۔ مودی نے کہا ’’ہم نئی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ تمام اراکین پارلیمنٹ سے ملک کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں، اس لیے میں سب سے گزارش کروں گا کہ اس موقع کو عوامی مفاد کے لیے استعمال کریں اور عوامی مفاد میں ہر ممکن قدم اٹھائیں‘‘۔وزیر اعظم نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ 18ویں لوک سبھا قراردادوں کا ایوان بنے گی تاکہ عام شہری کے خواب پورے ہوں اور ملک کے عوام نے جو ذمہ داری دی ہے اسے ہم مل کر بخوبی پورا کریں۔