لورن تاٹنگمرگ سڑک 5برسوں سے زیر تعمیر

 منڈی//تاریخی مغل شاہراہ کے بعد خطہ پیر پنچال کو وادی کشمیر کیساتھ ملانے والی لورن ٹنگمرگ شاہراہ گزشتہ 5برسوں سے زیر تعمیر ہے ۔انتظامیہ پی ڈی پی اور بھاجپا کی مخلوط حکومت کے دور میں شروع کی گئی سڑک کی تعمیر مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے میں ناکام ثابت ہو ئی ہے ۔اس سڑک کا سنگ بنیاد نو مبر 2015میں سابقہ ریاستی وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کی جانب سے رکھا گیا تھا تاہم 5برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک صرف 9کلو میٹر سڑک ہی تعمیر کی جاسکی ہے ۔70کلو میٹر لمبی سڑک میں سے محکمہ گریف کی جانب سے لورن کی طرف سے 30کلو میٹر سڑک تعمیر کی جانی ہے جبکہ ٹنگمرگ کی طرف سے 40کلو میٹر سڑک تعمیر کا کام بیکن کمپنی کو سونپا گیا ہے ۔ تعمیراتی کمپنی گریف کے او سی کے مطابق تیس کلو میٹر سڑک کی تعمیر لورن تا بڑا پتھر ان کو کرنا ہے جس میں سے انہوں نے نو کلو میٹر سڑک کی تعمیر کا کام مکمل کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ماہ اپریل میں چھ کلو میٹر سڑک کا کام پھر سے شروع کیا جانا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا ۔انہوں نے کہاکہ پیسہ نہ ہو نے کی وجہ سے سڑک کی تعمیر سست رفتاری کا شکار ہو گئی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لورن ٹنگمرگ سڑک کی تعمیر سے خطہ پیر پنچال کے لوگوں کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا اور خطہ کی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔مذکورہ سڑک کے مکمل ہو نے کی وجہ سے خطہ پیر پنچال کے طلباء کو درپیش مسائل حل ہو سکتے ہیں او ر اس خطہ کے طلباء کی ایک بڑی تعداد پہلے ہے وادی میں یر تعلیم ہے جس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ پونچھ ضلع کی جانب سے سڑک کی تعمیر کا سخت حصہ لگ بھگ مکمل کر لیا گیا ہے اب مزید باقی کام میں کسی مشکل کے اثار کم ہیں ۔مقامی لوگوں کو مذکورہ شاہراہ کے مکمل ہو نے کی وجہ سے سفر کم ہو جائے گا جبکہ مذکورہ سڑک جموں سرینگر اور مغل شاہراہ سے زیادہ آمدورفت والی شاہراہ بند سکتی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سڑک کا سنگ بنیاد رکھتے وقت سابقہ ریاستی وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید نے تین برسوں میں سڑک کو مکمل کرنے کا حکم جاری کیا تھا لیکن انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔مقامی لوگوں نے ریاستی گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ سڑک کی تعمیر جلداز جلد مکمل کی جائے تاکہ عوام کو سہولیات میسر ہو سکیں ۔