قوم پی ڈی پی پر اعتبار نہیں کرسکتی

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے لیڈران جن میں اننت ناگ پارلیمانی حلقے کیلئے نامزد اُمیدوار جسٹس حسنین مسعودی، جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، ڈاکٹر محمد شفیع اور فاروق احمد شاہ نے کہاہے کہ نیشنل کانفرنس ہی جموںوکشمیر کی واحد ایسی عوامی نمائندہ جماعت ہے جو ریاست کی خصوصی پوزیشن، دفعہ370، 35اے اور مذہبی ہم آہنگی کی مشعل کوفیروزاں رکھ سکتی ہے اور ریاستی مفادات کیلئے کوئی بھی قربانی دے سکتی ہے۔پارٹی لیڈران نے کہا کہ پی ڈی پی والے آج پھر سے عوام سے ووٹ مانگنے نکلے ہیں ، لیکن پہلے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ان لوگوں نے ریاست کا کیا حال کیا۔ ’’محبوبہ مفتی کہتی ہیںکہ وہ بھاجپا کیساتھ دوبارہ ہاتھ نہیں ملائیں گی، لیکن موصوفہ شائد بھول گئی ہیں کہ 2014میںبھی انہوں نے اسی نعرے پر لوگوں سے ووٹ مانگے۔ محبوبہ مفتی، اُن کے والد مرحوم اور دیگر لیڈران نے 2014میں ہر ایک انتخابی جلسے میں کہا کہ بی جے پی کو روکنے کیلئے پی ڈی پی کو جتوانا ضروری ہے اور لوگ ان باتوں میں بہہ گئے اور آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘‘ این سی لیڈران نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اُس وقت مرحوم مفتی صاحب کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ مفتی صاحب جس رستے پر آپ جارہے ہیں وہ ریاست کو تباہی کی اور لے جائیگا، خدارا بھاجپا کیساتھ اتحاد مت کیجئے، نیشنل کانفرنس آپ کو وزیر اعلیٰ بننے کیلئے غیر مشروط حمایت دینگے، ہمیں کوئی چیز نہیں چاہئے ، آپ 6سال ریاست کو چلایئے۔‘‘ لیکن افسوس کی بات ہے کہ پی ڈی پی والوں نے اس وقت کہا کہ نیشنل کانفرنس والوں کی جیب خالی ہے اور کانگریس والے ہمیں کچھ نہیں دے سکتے۔ لیڈران نے کہا کہ پی ڈی پی کے بھاجپا کیساتھ اتحاد کیساتھ ہی ریاست خصوصاً وادی کو جان بوجھ کر آگ کے شعلوں کی نذر کیا گیا۔ پی ڈی پی حکومت نے ظلم و بربریت کے ریکارڈ قائم کئے، محبوبہ مفتی کی حکومت میں خواتین اور بچوں تک کو بھی نہیں بخشا گیا۔ سابق پی ڈی پی بھاجپا مخلوط حکومت کی غلط پالیسیوں اور عوام کُش اقدامات سے آج کشمیریوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہاہے، گذشتہ 4سال میں عوام کیخلاف زور آزمائی کی پالیسی اختیار کرکے کشمیریوں کو پشت بہ دیوار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے قیام کے بعدیہاں ایسے حالات برپا کئے گئے کہ آئے روز نوجوانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہمارے بچے مارے جارہے ہیں، یہ ظلم و جبر کس نے شروع کیا، 2015سے قبل تو یہاں ایسے حالات نہیں تھے، یہاں تو چاروں طرف امن و امان تھا ،ریاست ترقی کی منزلوں کو چھو رہی تھی، بے شمار سیاح یہاں سیر کیلئے آتے تھے، سیکورٹی فورسز کی آبادی والے علاقوں میں موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔لیکن پی ڈی پی نے بدترین حکمرانی کرکے یہاں کے امن کو تہس نہس کردیا۔پارٹی لیڈران نے کہا کہ نیشنل کانفرنس وہ واحد جماعت ہے جس نے ریاست جموں و کشمیر کے مفادات کے تحفظ کیلئے جانی اور مالی قربانیاں دیں ہیں۔