قومی سلامتی کیخلاف کام کرنے والے صحافی

سرینگر//مرکزی حکومت نے خبردارکیاہے کہ اگر صحافی قومی سلامتی کے خلاف کام کرتے ہیں تو وہ سرکاری ایکریڈیشن کھو سکتے ہیں۔سنٹرل میڈیا ایکریڈیٹیشن گائیڈ لائنز2022، جس کا پیر کو اعلان کیا گیا، آن لائن نیوز پلیٹ فارمز کیلئے کام کرنے والے صحافیوں کی ایکریڈیٹیشن (معیار کے مطابق منظوری) کیلئے رہنما خطوط مرتب کرتا ہے۔نئی پالیسی میں وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ ملک کی سلامتی، خودمختاری اور سالمیت کے ساتھ ساتھ’عوامی نظم و نسق، شائستگی یا اخلاقیات‘ کیلئے متعصبانہ انداز میں کام کرنے والے صحافی اپنی سرکاری ایکریڈیشن کھو دیں گے۔رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورت میں، صحافی یامیڈیا تنظیم کو زیادہ سے زیادہ 5 سال تک کی منظوری سے روک دیا جائے گا لیکن2 سال سے کم نہیں، جیسا کہ سینٹرل میڈیا ایکریڈیٹیشن کمیٹی کے ذریعہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ، تسلیم شدہ میڈیا پرسنز کو پبلک یاسوشل میڈیا پروفائل، وزیٹنگ کارڈ، لیٹر ہیڈز یا کسی دوسرے فارم یا کسی شائع شدہ کام کے الفاظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات مرکزی میڈیا ایکریڈیٹیشن کمیٹی تشکیل دے رہی ہے جس کی سربراہی پرنسپل ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کریں گے اور اس میں حکومت کی طرف سے نامزد کردہ 25 اراکین شامل ہیں۔