قلم قبیلہ سے دشتِ سیاست تک قانون ساز کونسل کے بعدمنہاس کی پارلیمان پر نظر

بلال فرقانی

سرینگر//نرم گفتار،خاموش طبیعت اورخوش مزاج ظفر اقبال خان منہاس کا قلم سے سیاست تک کا سفر اپنے ہم عصر شاعروں و قلمکاروں میں خصوصیہ ہے۔ ظفر منہاس کی پیدائش63برس قبل جنوبی ضلع شوپیاں کے شاداب کریوا علاقے میں مرحوم بشیر احمد خان کے گھر میں ہوئی۔ایک سنجیدہ شاعر اور قلمکار ہونے کے علاوہ منہاس ماضی میں جموں کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز کے سیکریٹری بھی رہے ہیں۔ قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہونے کے بعد جموں کشمیر اپنی پارٹی نے انہیں جنوبی پارلیمانی نشست اننت ناگ،راجوری سی انتخابی میدان میں اتارا ہے۔
ابتدائی حالات
ظفر اقبال خان نے16اگست1957کو مرحوم بشیر احمد خان کے گھر آنکھیںشاداب کریوا شوپیاں میں کھولیں۔ مرحوم کے والد پیشے سے ایک ٹھیکیدار تھے۔ظفر اقبال منہاس نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقے کے سرکاری سکولوں سے حاصل کی جبکہ8ویں جماعت کا امتحان نار پورہ شوپیاں اور10جماعت کا امتحان ہائر سکینڈری سکول شوپیاں سے پاس کیا۔ انہوں نے بعد میں سرینگر کے ایس پی کالج سے1974میں گریجویشن کی۔ منہاس نے کشمیر یونیورسٹی سے پہلے1981میں فارسی اور بعد میں 1986میںاردو مضمون میں ماسٹرس ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کی حصولیابی کے بعد منہاس نے اپنے والد کاپیشہ اپناتے ہوئے سرکاری ٹھیکیداری شروع کی اور بہت کم وقت میں’اے کلاس‘ کنٹریکٹر کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔1984میں اکیڈیمی آف آرٹ،کلچر اینڈ لنگیویجز کے پہاڑی شعبے میں پہاڑی اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت اختیار کی جبکہ1987میں انہیں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر ترقی دی گئی۔ منہاس نے کلچرل اکادمی میں کئی عہدوں پر کام کیا اور مئی2008میں انہیں کلچرل اکادمی کا سیکریٹری تعینات کیا گیا جبکہ نومبر2011میں وہ سبکدوش ہوئے۔ پی ڈی پی،بھاجپا مخلوط سرکار کے دوران انہیں مئی2017میں کلچرل اکیڈیمی کا نائب صدر نامزد کیا گیا۔ منہاس کو بچپن سے ہی مطالعہ،شعر و شاعری اور صفحہ قرطاس کو سیاہی سے سیاہ کرنے کا شوق تھا۔ منہاس نے جموں کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز کے ذریعہ شائع کردہ مختلف زبانوں میں 100سے زیادہ کتابیں تصنیف و ترجمہ کی ہیں۔ انہوں نے پہاڑی سے پہاڑی لغت سمیت مختلف معتبر تحقیقی منصوبوں کی سربراہی بھی کی ہے۔منہاس نے کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں جن میں سیکریٹری، ریاستی خود مختاری کمیٹی،ممبر، خود مختاری کمیٹی اور سکریٹری، جموں و کشمیر ریاستی مشاورتی بورڈ برائے فروغ پہاری طبقہ جات شامل ہیں۔1989میں منہاس کو پہاڑی کتاب’چھمر‘‘ پر بہترین کتاب کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔اس دوران وہ نظم اور نثر دونوں لکھتے رہے اور انکا شمار جموں کشمیر کے معروف قلمکاروں و ترجمہ کاروں میں ہوتا ہے۔ منہاس نے سال2008میں اردو اخبار’پکار‘ بھی شروع کیا،جس میں ابتدائی طور پر انکے فرزند مدیر رہے جبکہ سبکدوشی کے بعد ظفر منہاس نے از خود اس کی ادارت سنبھالی ۔منہاس نے1999میں پہاڑی ویلفیئر سوسائٹی بھی قائم کی،جس نے’ شمس بری‘ کے نام سے3زبانوںاردو،پہاڑی اور انگریزی میں مضامین شائع کئے۔ اس عرصہ میں ظفر منہاس کے جموں کشمیر سے شائع ہونے والے مختلف اردو خبارات میں مضامین چھپتے رہے۔
قلم سے سیاست تک
ملازمت سے سبکدوشی کے بعد ظفر اقبال منہاس نے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی اور مئی2013میں انہیں پی ڈی پی کا ریاستی سیکریٹری نامزد کیا گیا۔اپریل2015کو ظفر اقبال منہاس پی ڈی پی کی طرف سے قانون ساز کونسل کے رکن نامزد ہوئے اور5 اگست2019کے بعدجموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ مجریہ 2019کی دفعہ 57کے مطابق قانون ساز کونسل کو ختم کرنے تک کونسل کے ممبر رہے۔ سال2018میں ظفر منہاس کو سال2017کیلئے بہترین قانون ساز کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ جنوری2020میں پی ڈی پی نے ظفر اقبال منہاس سمیت دیگر8پارٹی لیڈروں کو غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کرنے کی پاداش میں پارٹی سے بے دخل کیا۔مارچ2020میں پی ڈی پی کے سابق لیڈر سید الطاف بخاری کی طرف سے جموں کشمیر اپنی پارٹی کو منصہ شہود پر لانے کے ساتھ ہی ظفر اقبال منہاس اس میں شامل ہوئے،جبکہ بعد میں انہیں پارٹی کا نائب صدر اور ضلع صدر شوپیاں نامزد کیا گیا۔ اپنی پارٹی نے انہیں راجوری،اننت ناگ پارلیمانی حلقہ انتخاب کے الیکشن کیلئے امیدوار کے طور میدان میں اتارا ہے،جہاں انکا مقابلہ سابق وزیر اعلیٰ اور سابق پارٹی سربراہ محبوبہ مفتی کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے امیدوار میاں الطاف سے براہ راست ہوگا۔
جائیداد
الیکشن کمیشن کو جمع کئے گئے بیان حلفی کے مطابق ظفر اقبال منہاس ایک کروڑ29لاکھ34ہزار768روپے مالیت جائیداد و نقدی کے مالک ہیںتاہم وہ کسی بھی مالی ادارے کے مقروض نہیں ہیں۔بیان حلفی جمع کرنے کے وقت منہاس اور انکی شریک حیات کے پاس ڈیڑھ لاکھ روپے در دست تھے جبکہ انکے ایک بنک کھاتہ میں42لاکھ74ہزار361اور دوسرے کھاتہ میں89ہزار652روپے اور انکی شریک حیات کے بنک کھاتہ میں ایک لاکھ80ہزار753روپے جمع تھے۔ انکے پاس18ہزار847روپے کی لائف انشورنس پالیسی بھی ہے جبکہ انکی شریک حیات کے پاس26لاکھ40ہزاروپے مالیت کے سونے کے زیوارات ہیں۔ منہاس شاداب کریواشوپیاںمیں36لاکھ روپے کی زرعی اراضی کے مالک بھی ہیں۔