قلعہ پونچھ ہماری وراثت ہے اس کو تحفظ فراہم کیا جائے :کہکشاں کلچرر آرگنائزیشن

پونچھ//پونچھ قلعہ کی روزبروز خستہ حالت ہو رہی ہے جس کو دیکھ کر پونچھ کے عوام فکر مند نظر آرہے ہیں۔ کہکشاں کلچرر آرگنائزیشن کے صدر، معروف شاعر اور سماجی شخصیت شیخ سجاد پونچھی نے ضلع انتظامیہ پونچھ سے تاریخی قلعہ کی حفاظت کی اپیل کی۔انھوں نے کہا کہ پونچھ ریاست کے راجہ رستم خان نے اس تاریخی قلعے کا سنگ بنیاد رکھا اور قدیم قلعہ کو تعمیر کروایاجس کے بعد کا کچھ حصہ ڈوگرہ حکمرانوں نے بنایااور راجہ بلدیو سنگھ نے اس یادگار قلعے کو مزید تعمیر کر کے اسے سول سیکریٹریٹ بنا دیا اور بادشاہ اس قلعے کو عوامی درباروں کیلئے بھی استعمال کرتے تھے۔انھوں نے کہا کہ 2005 کے زلزلے نے اس تاریخی قلعے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جس کے بعد پونچھ کے لوگوں نے اس کے تحفظ کیلئے آواز بلند کی آخر کار حکومت نے اس قلعے کی پرانی شان و شوکت کو برقرار رکھنے کیلئے اس کی تزئین و آرائش کا کام شروع کرنے کے لئے رقومات فراہم کی اور اس کی تھوڑی بہت مرمت ہوئی۔انھوں نے بتایا جو مرمت کی گئی وہ ناکافی ہے کیونکہ ابھی بھی قلعہ کا اکثر حصہ کھنڈرات بنا ہوا ہے جس کی اگر فوری مرمت نہ کی گئی تو شاید ہماری آنے والی نسلیں اس قلعے کے بارے میں کتابوں میں ہی پڑھ پائیں گے۔ ایڈووکیٹ سنجے رائنا صدر پیپلز فورم پونچھ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قلعہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔انھوں نے کہا سابق حکومتوں کی سنجیدگی کے فقدان کی وجہ سے پونچھ قلعہ کی زمین پر لوگوں نے ناجائز تجاوزات کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے اس تاریخی عمارت کے گردونواح کے غیر قانونی ڈھانچے بنائے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس قلعے کے اردگرد کا راستہ کچھ نشے کے عادی افراد استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اس قلعے کے اندر اور باہر گھنی جھاڑیاں اور پودے اگے ہوئے ہیں جس نے قلعہ کی شان و شوکت کو بری طرح متاثر کررکھا ہے۔انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے کہ کہیں سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر پونچھ قلعے کے اندر سے سکیورٹی فورسز اور عام لوگوں کو نقصان نہ پہنچا دیں۔انھوں نے لفٹینٹ گورنر اور مرکزی حکومت سے گزارش کی ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور سنجیدگی سے غور کریں اور ضلع پونچھ کے اس تاریخی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدام اٹھائیں۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ قلعہ کی شان و شوکت کو بحال کرنے کے لئے آثار قدیمہ کے ماہرین کو یہاں لایاجائے اور منصوبہ بند طریقہ سے اس کی مرمت کروائی جائے۔