فوڈ کارپوریشن آف انڈیا نے جون کیلئے صرف50فیصد راشن واگذار کیا

سرینگر // وادی میں اشیائے ضروریات کی بڑھتی قیمتوں کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیاکی طرف سے ماہ جون کیلئے صرف 50فیصد راشن کوٹا واگزار کیا گیا ہے۔ محکمہ امور صارفین کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے صوبائی ڈائریکٹر کے نام ایک مکتوب  16مئی 2019کو لکھا ہے جس میں انہوں نے اس قلت کو دور کرنے کیلئے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے ساتھ معاملہ اٹھانے کیلئے کہا ہے تاکہ وادی میں راشن کی موجودہ قلت پر فوری طور قابو پایا جا سکے ۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے بیشتر گوداموں میں 3لاکھ 33ہزار 380کوئنٹل چاول موجود ہے۔ مکتوب کے مطابق محکمہ کو ماہ جون کیلئے 3لاکھ33ہزار777کونٹل چاول درکارہیں تاہم مطلوبہ تعداد کے بجائے محکمہ کو صرف 50فیصد راشن فراہم کیا گیا ہے۔اس مکتوب میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سابق سرکار کے دوران شروع کی گئی مفتی محمد سعید فوڈ سکیم کے تحت واگزار ہونے والے 4950میٹرک ٹن چاول بھی واگزر کریں تاکہ درپیش مشکلات سے چھٹکارا پایا جا سکے ۔محکمہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری کے صوبائی ڈائریکٹر محمد قاسم وانی نے کہا کہ راشن کی کوئی قلت نہیں ہے بلکہ یہ خط انہوں نے ایف سی آئی کے حوالے سے لکھا ہے کہ راشن 2ماہ کا ہونا چاہئے لیکن یہاں ایک ماہ کا راشن ہے وہ بڑھایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مئی کے مہینے کا جو راشن چاہئے تھا اُس کو سو فیصد اٹھایا گیا ہے اور جون کا راشن بھی لیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ کسی جگہ راشن کی کوئی کمی یا قلت ہے ۔