بانہال // جموں سرینگر شاہراہ کی کشادگی کیلئے رام بن بانہال سیکٹر میں جاری کام ٹھیکداروں کی ہڑتال کی وجہ سے پچھلے دو ہفتوں سے مسلسل بند پڑا ہے اور ہندوستان کنسٹریکشن کمپنی سے و ابستہ ٹھیکیدار کئے گئے کام کی رقومات کی واگذاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی ٹھیکداروں نے بتایا کہ بانہال۔ رام بن سیکٹر میں کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو رقومات کی آدائیگی میں کی جارہی تاخیر سے پروجیکٹ کی تعمیر بھی متاثر ہورہی ہے اور درجنوں ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ ان کی کروڑوں روپئے کی رقم پچھلے کئی مہینوں سے کمپنی ادا نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے ٹھیکیداروں کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ کام کرنے والے مزدوروں اور ورکروں کی مالی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام بن اور بانہال کا سخت ترین جغرافیائی سیکٹر والا کام کو انجام دینے میں کمپنی اور ٹھیکیداروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور اس قومی پروجیکٹ کو مکمل کرنے کیلئے دونوں نے اب تک ایک دوسرے کو بہت تعاون کیا ہے مگر رقومات کی ادائیگی میں ہندوستان کنسٹریکشن کمپنی ممبئی اور نیشنل ہائے وے آتھارٹی اف انڈیا نے نظریں پھیرے رکھی ہیں ۔ کہا کہ ٹھیکیداروں نے دن رات محنت کرکے کام کو جاری رکھا ہوا ہے لیکن اب کمپنی کی طرف لمبی مدت سے واجب ادا بلیں واگذار نہ کرنے کی وجہ سے انہوں نے پچھلے آٹھارہ دنوں سے رام بن اور بانہال کے سیکٹر میں فورلین شاہراہ کی تعمیر کا کام بند رکھا ہوا ہے کیونکہ رقومات نہ ہونے کی وجہ سے کام کو جاری رکھنا ان کیلئے نا ممکن ہو گیا ہے اور ایچ سی سی کے اعلی عہددار رقومات کی واگذاری کی طرف کوئی توجہ دینے کے بجائے ٹال مٹول کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ واضح رہے ٹھیکداروں کی ہڑتال سے قبل کمپنی میں تعینات ورکر بھی اجرتوں کی بقایاجات کو لیکر ہڑتال پر چلے گئے تھے لیکن بعد میں ان کی کچھ رقومات واگزار کرنے کے بعد انہوں نے اپنی ہڑتال کو ختم کیا تھا۔ کمپنی کے ساتھ جْڑے ورکر کئی چھوٹے چھوٹے فورلین ٹنلوں پر کام شاہراہ کی گشادگی کاکام کرنے والے بیشتر ٹھیکیداروں نے کام بند رکھا ہوا ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کمپنی کو درپیش ممکنہ مالی دشواری کی وجہ سے ٹھیکداروں اور ورکروں کو ادا کی جانی والی رقومات میں بار بار تاخیر ہو رہی ہے اور اس تاخیر کی وجہ سے شاہراہ کے سب سے خطراناک اور حادثاتی سیکٹر مانے جانے والے رام بن اور بانہال کے درمیان کا فورلین شاہرا ہ کاکام مقرر وقت سے تاخیر کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے۔