فوج کی زیادتیوں کے خلاف بارہمولہ احتجاج

 
 سرینگر// بارہمولہ میں کل ہارون ، یمبرزلواری اور دیگر دیہات کے سینکڑوں لوگوں نے اے آئی پی سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید کی سربراہی میں فوج کی چیرہ دستیوں کے خلاف زوردار احتجاج کیا اور علاقہ میں زیادتیاں بند کرنے کا فوری مطالبہ کیا۔ اس موقعہ پر انجینئر رشید نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ میں ایک ہفتہ قبل ایک مائن بلاسٹ کے بعد فوج نے ۹کلو میٹر لمبی ہارون یمبر زلواری سڑک کو لوگوں کی آمد و رفت کیلئے بند کر دیا جس کی وجہ سے پورا علاقہ گذشتہ چھ دنوں سے انتہائی مصیبتوں کا شکار ہو اہے ۔ انجینئر رشید نے کہا ’’نہ صر ف کہ سڑک کو مکمل طور سے بند کر دیا ہے بلکہ پیدل چلنے والوں کو بلا لحاظ عمر و جنس زالورہ اور یمبر زلواری کے فوجی کیمپوں میں انٹری کرنی پڑتی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ گھر کیلئے خریدی گئی اشیائے خوردنی کی تعداد اور تفصیل فوجی کیمپ پر درج کرنی پڑتی ہے ۔ پورے علاقہ میں چھ دن سے اسکول بھی بند پڑے ہیں اور نزدیکی کالج یا ہائر اسکینڈری میں کوئی بھی بچہ جانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ دنوں علاقہ کے ایک معزز شخص غلام رسول بٹ کا جب کسی اسپتال میں انتقال ہوا تو ان کی لاش کو کئی گھنٹوں تک کیمپ سے آگے نہیں جانے دیا گیا اور آخر کار صرف چند افراد کو میت کے ساتھ جانے کی اجازت دی گئی جب کہ باقی لوگوں کی گاڑیاں واپس موڑ دی گئیں۔ درد زہ میں مبتلا سفینہ بیگم دختر غلام رسول ریشی کو متعلقہ کیمپ سے گذرنے کی اجازت نہ دی گئی اور مجبوراً بد نصیب اہل خانہ کو چیخیں مارتی ہوئی سفینہ کو واپس گائوں لانا پڑا ۔انہوں نے الزام لگایاکہ متعلقہ فوجی افسر نے مقامی جنگل میں بھی کافی لوٹ مچائی ہے اور مقامی لوگوں کو ہر روز جنگل سے لکڑی بلا معاوضہ کاٹنے کیلئے مجبور کرتا ہے ۔ سومو ڈرائیوروں کو باری باری اپنی گاڑیاں متعلقہ کیمپ کے پاس بلا معاوضہ رات بھر رکھنی پڑتی ہے ‘‘۔ احتجاج کے بعد انجینئر رشید کی سربراہی میں بستی کا وفد ڈپٹی کمشنر بارہمولہ اور ایس ایس پی سوپور سے ملا اور مطالبہ کیا کہ اس غنڈہ راج کا فوری طور سے خاتمہ کیا جائے ۔