فوجی سربراہ کشمیر کے دو روزہ دورے پر

سرینگر// فوجی سربراہ ایم ایم ناروانے،نے وادی میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ فوجی سربراہ جمعرات کو وادی کے دو روزہ دورے پر پہنچے،اور شمالی کشمیر میں حد متارکہ شمالی کمان کے فوجی سربراہ اور چنار کور کے کمانڈر کے ہمراہ تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔ حد متارکہ پر تعینات فوجی اہلکاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے فوجی سربراہ نے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی،جبکہ’’ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر منہ توڑ جواب دینے پر انکی سراہنا کی‘‘۔ انہوں نے حد متارکہ پر جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لاکر دن رات موثر نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سرحد پار سے دراندازی کی کئی کوششوں کو اس کے نتیجے میں ناکام بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ سرحدی علاقوں میں رہائش پذیرشہری آبادی کو تمام تر ممکن ممد فراہم کریں۔انہوں نے کہا’’ یہ سرحدی آبادی پاکستانی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی شکار بنتی ہے،اور اس وباء میں انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔ فوجی سربراہ نے میدانی علاقوں میں تعینات فورسز اور فوجی افسران کے ساتھ بھی بات کی۔فوجی سربراہ نے کہا کہ کشمیر میں یہ خوشحالی،امن اور ترقی کا نیا دور ہے۔ جموں کشمیر میں فوجی اہلکاروں کی جانب سے قیام امن میں اپنا کردار ادا کرنے پر انہوں نے انکی حوصلہ افزائی کی۔ ایم ایم ناروانے نے سرکاری  ایجنسیوں کی جانب سے وادی میں قیام امن اور وبائی بیماری کرونا وائرس کے چیلنجوں سے نپٹنے کے بیچ لوگوں تک پہنچنے کیلئے آپسی تال میل کی سراہنا کی۔ فوجی سربراہ نے جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گونر منوج سنہا سے بھی ملاقات کی،جہاں پر انہوں نے مرکزی زیر انتظام والے خطے میں سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کو خطے میں امن اور استحکام بنائے رکھنے میں فوج کی طرف سے مکمل تعاون دینے کی یقین دہانی کرائی۔ چیف آف آرمی اسٹاف18ستمبر کو دہلی واپس روانہ ہونگے۔