نیویارک //امریکی ریاست فلوریڈا میں گزشتہ ماہ منہدم ہونے والے ٹاور کے ملبے میں لاپتا افراد کی تلاش کا کام روک دیا گیا ہے جبکہ 86 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ امدادی کارکنوں نے 24 جون کو تباہ ہونے والے چیمپلین ٹاورز کے ملبے سے 54 لاشیں نکالی تھیں اور مزید دن رات آپریشن جاری رکھنے سے مزید لاپتا افراد کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔میامی ڈیڈ کاونٹی کے میئر ڈینئیلا لیوائن کیوا نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہم اس وقت امدادی کام میں ہر پہلو سے تھک چکے ہیں کیونکہ ہم ان لوگوں کو واپس نہیں لاسکتے جو اپنی جانیں کھو بیٹھے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملبے سے گزشتہ روز 18 لاشیں نکال لی گئی تھیں جبکہ 86 افراد تاحال لاپتا ہیں اور ان کے بارے میں خدشہ ہے وہ ملبے تلے دب گئے ہیں۔حکام کا کہنا تھا کہ ان 86 افراد کے ملنے کے کچھ امکانات ہیں یا دوبارہ گنتی کی جائے۔میامی ڈے فائر ریسکیو کے اسسٹنٹ چیف رے جاداللہ نے متاثرہ خاندانوں سے ذاتی ملاقات میں بتایا کہ اس دن ٹاور کے اندر موجود افراد میں سے کسی کے زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔جاداللہ نے کہا کہ امدادی کارکنوں نے متاثرہ خاندانوں بتایا ہے کہ جس طرح 12 منزلہ عمارت زمین بوس ہوئی ہے، اس کے مطابق انسان کے بچنے کے امکانات نہیں ہیں۔ٹاور کے انہدام کے بعد ابتدائی چند گھنٹوں کے دوران بھی امدادی کارکن کسی کو بھی زندہ نکالنے میں ناکام رہے تھے اور خاص مشینوں کی مدد سے تلاش کے باوجود کسی کے بچنے کا نشانات نہیں ملے۔یاد رہے کہ فلوریڈا میں 24ون کو 12 منزلہ عمارت منہدم ہونے کے نتیجے میں 156ے زائد افراد لاپتا ہوگئے تھے۔