فرقہ پرستی سے نجات کیلئے اتحاد ناگزیر :تاریگامی

 
 قاضی گنڈ//سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہاہے کہ کشمیر میں موجودہ سیاسی غیر یقینی ، پچھلی ایک دہائی میں سب سے زیادہ تشدد اور سب سے کم معاشی سرگرمیاں بھاجپا حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔قاضی گنڈ میں کارکنان کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ کشمیر میں صورتحال مسلسل غیر یقینی کاشکار ہے اور بھاجپا اورآر ایس ایس کی کشمیر کے تئیں پالیسی نے انسانی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنادیاہے ۔تاریگامی نے کہاکہ یہاں مایوسی ہے اور بھاجپا کی حکومت نے کئے گئے وعدوں کو ایفا نہیں کیا ۔ انہوںنے کہاکہ بھاجپا کی انہی پالیسیوں کے نتیجہ میں کشمیری طلباء، تاجروں اور ملازمین کو ملک بھر میں نشانہ بنایاجارہاہے اور پلوامہ فدائین حملے کے بعد یہ سب نے دیکھابھی ۔ انہوں نے کہاکہ جب حکومت ان معاملات پر خاموش تماشائی بن گئی تو سپریم کورٹ کو مداخلت کرناپڑی ۔تاریگامی نے کہاکہ پی ڈی پی اور بی جے پی کا تین سال سے زائد کا اتحاد گزشتہ سال جون میں ختم تو ہوگیا لیکن اپنے پیچھے تشدد اور فرقہ واریت چھوڑ گیا۔ انہوں نے کہاکہ دونوںجماعتوں کے بیانات اس وقت سے میل نہیں کھارہے جب انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کیاتھا۔تاریگامی نے کہاکہ وزیر اعظم نے 15اگست 2017کو کہاتھاکہ کشمیریوں کو گلے لگانے کی ضرورت ہے نہ کہ گولیوں یا مار پیٹ کی ،تاہم گلے لگانے کے بجائے کشمیریوں کو پیلٹ ، گولیوں، ہلاکتوں ، جیلوں اور پی ایس اے کاسامناہے ۔ان کاکہناہے کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، کیسوں کا اندراج، پی ایس اے کا نفاذاور این آئی اے کارروائیاں مسئلہ کا حل نہیں کریں گی ۔انہوںنے مذاکرات کو مسائل کا واحد حل قرار دیتے ہوئے کہاکہ تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کی جائے جس سے تشدد اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوسکتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ دنیا کے لئے مسائل کا بہترین طریقہ مذاکرات ہیں کیونکہ تشدد صرف اور موت اورتباہی لاتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ ممالک بھی بالآخر بات چیت کرنے پر مجبور ہوئے جنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ طویل جنگیں لڑیں ۔ تاریگامی نے کہاکہ نئی دہلی کو جموں و کشمیر کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کاراستہ اختیار کرناچاہئے اور سیاسی مسائل کاحل مذاکرات سے ہو نہ کہ طاقت سے ۔اس موقعہ پر پارٹی کے ریاستی سیکریٹری غلام نبی ملک ، غلام نبی وانی ، محمد افضل پرے ،غلام احمد گنائی ، غلام حسن ڈار اور شبیر احمد نے بھی خطاب کیا ۔