فتح گڑھ بارہمولہ میں ہولناک آگ | 8دکانیں خاکستر،لاکھوں کا سازوسامان راکھ

بارہمولہ //ضلع بارہمولہ کے فتح گڑھ علاقے میں دوران شب آتشزدگی کی ایک واردات میں 8دکانیں خاکستر ہوگئیں۔عینی شاہدین کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو رات گیارہ بجکر آٹھ منٹ پر مین بازار میں اویس احمد میر نامی شخص کی ایک دوکان( ہول سیل) سے آگ نمودار ہوئی جس کی لپیٹ میں آس پاس موجود منیب احمد، منظور احمد، غلام محی الدین اور محمد یوسف کی مزیدسات دوکانیں آگئیں ۔اس موقع پرلوگوں نے آگ پر قابو پانے کیلئے فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز محکمہ کو اطلاع دی گئی جنہوں نے فوج، پولیس اور مقامی نوجوان کی مدد سے آگ پر قابو پالیا ۔ ادھر فوج کے حکام نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع ملنے پر دو ٹیمیں بشمول کوئیک ری ایکشن ٹیم آگ بجھانے کے آلات کے ساتھ موقع پر پہنچ گئی اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں آگ پر قابو پالیا گیا۔آتشزدگی کی اس واردات میں آٹھ دوکانیں اور اس میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا سامان راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگانے کی تحقیقات شروع کردی۔ادھر مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ پر الزام عائدکیا ہے کہ نارواو علاقے کے تیس دیہات کیلئے ایک بھی فائر اینڈ ایمرجنسی اسٹیشن دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے انتہائی نقصان ہوا۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں فوری طور پر ایک فائر اینڈ ایمرجنسی اسٹیشن قائم کیا جائے۔
 
 
 

اپنی پارٹی کا متاثرین سے اظہار یکجہتی |  کو معقول معاوضہ فراہم کرنے کی اپیل

سرینگر//اپنی پارٹی ترجمان اعلیٰ اور بارہمولہ کپواڑہ اضلاع کے انچارج جاوید حسن بیگ نے ضلع انتظامیہ سے گذارش کی ہے کہ نارواو فتح گڑھ کے دکانداروں کی بازآبادکاری کی جائے جن کی دکانیں آتشزدگی واردات میں خاکستر ہوگئیں۔ ایک بیان میں بیگ نے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسے واقعات مسائل میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔ موجودہ معاشی بدحالی سے پہلے ہی تاجر برادری خاص طور سے چھوٹے درجے کے تاجروں اور دکانداروں کو پہلے ہی ایک بہت بڑے معاشی دباؤ میں ڈال دیا ہے جہاں اس طرح کے ناخوشگوار واقعات انہیں مزید پس پشت ڈال دیتے ہیں۔بیگ نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ان آتشزدگان کی بازآبادکاری کیلئے اقدامات کرے اور اُن کے بھاری نقصانات کے پیش نظر اُنہیں مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔