غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی سے حال بے حال | عوام کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور نہ کریں:منجیت سنگھ

نیوز ڈیسک

جموں//اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع کے دیہات اور سرحدی علاقہ جات میں لگاتار غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی اور پانی سپلائی نظام میں خلل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وجے پور میں پارٹی لیڈران اور ورکروں کے ماہانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے منجیت سنگھ نے وہاں لوگوں کو درپیش مشکلات ومسائل سُنے جس میں زیادہ تر نے غیر اعلانیہ طویل بجلی کٹوتی پراپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔ منجیت سنگھ نے کہاکہ سانبہ، کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں اِ س وقت شدت کی گرمی ہے، سرحدی علاقہ جات اور دیہات میں لگاتار غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی کی جارہی ہے لیکن پی ڈی ڈی کو لوگوں کی مشکلات کا زرہ بھر احساس نہیں۔ بجلی کٹوتی نے معمولات زندگی کو بے حد متاثر کیا ہے۔ کسان طبقہ بہت پریشان ہے۔ بجلی کٹوتی کی وجہ سے پانی کی سپلائی بھی نہیں ہورہی۔ کسان اپنے کھیتوں کو پانی دینے کے لئے واٹر پمپ بھی نہیں چلا پا رہے ہیں۔ سبزیوں کے کاشتکاروں نے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اُن کی پیداوار میں کمی آئی ہے ۔اپنی پارٹی صوبائی صدر نے مزید کہاکہ صنعتی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے جہاں اشیاء کی پیداوار کم ہوئی ہے اور صنعتی شعبے کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں کنٹریکٹ پر ملازمتیں کم ہو گئی ہیں اور انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ صورتحال پر غور کرے اور بجلی کی فراہمی کو باقاعدہ بنائے۔انہوں نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے پن بجلی پروجیکٹوں سے تیار ہونے والی بجلی دوسری ریاستوں کو بھیجی جارہی ہے اور جموں و کشمیر کے لوگ گرمی کی شدت میں بھی مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی بجلی جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے مختلف علاقوں کو فراہم کی جائے تاکہ بجلی کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔انہوں نے متنبہ کیاکہ فوری یوٹی انتظامیہ نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو لوگ سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔