عید سے چند روز قبل ،شہر کے بازاروں میں لوگوں کا اژدھام

سرینگر//ماہ رمضان کے آخری اتوار کو شہر سرینگر اور اُس کے نواحی علاقوں میں عید الفطر کے پیش نظرغیر معمولی رش دیکھنے کو ملا اور لالچوک میں لوگوں کی بھیڑ اُمڈ آئی جو کہ صبح سے ہی خریداری میں مصروف رہی جس دوران کروڑ وںروپے کی خرید و فروخت ہوئی ۔ عید الفطر کے پیش نظر شہر کے بازاروں میںکئی روز قبل ہی لوگوں کی آمد شروع ہو گئی اور اس سلسلے میں لالچوک میں دن بھر لوگوںکی بڑی تعداد بھاری خریداری میں مصروف دکھائی دی ۔ اتوارصبح سے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد لالچوک میں واقع مختلف دکانوں پر قطاروں میں دیکھے گئے اور وہ ضروری چیزیںحاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ چنانچہ دن گزرنے کیساتھ ساتھ شہر سرینگر کے بازاروں میں رش بڑھتا گیااور دوپہر کو لالچوک میں لوگوں کا اژدھام امڈ پڑا جس کے نتیجے میں تل دھرنے کی بھی جگہ دیکھنے کو نہیں مل رہی تھی۔ فٹ پاتھوں پرموجود مختلف قسم کی اشیاء خریدنے میں بھی لوگ مصروف تھے اور اس کے علاوہ ملبوسات کی دکانوں پر زبردست رش دیکھنے کو ملا ۔ فٹ پاتھوں پرموجود مختلف قسم کی اشیاء خریدنے میں بھی لوگ مصروف تھے اور اس کے علاوہ ملبوسات کی دکانوں پر زبردست رش دیکھنے کو ملا ۔شہر سرینگر کے تمام مصروف ترین با زاروں میں عید الفطر کے سلسلے میںبھاری پیمانے پر لو گوں کی طرف سے خریداری جا ری ہے اور شہر کے انتہائی مصروف ترین علاقوں جن میں بٹہ ما لو،ہری سنگھ ہائی سٹریٹ،گونی کھن مارکیٹ،مہاراجہ با زار،ریگل چوک ،ڈلگیٹ،صورہ شامل ہیںمیں بھاری رش دیکھنے کو ملا اور لوگ ہرطرح کی اشیا خریدنے کیلئے زبردست تگ و دو میں مصروف ہیں ۔ادھر شہر میں بھاری عوامی رش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرینگر کے لالچوک، گھنٹہ گھر، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ، گونی کھن ، مہاراجہ بازار ، امیراکدل ، کوکربازار، پائین شہر، وسطی شہر، بٹہ مالو، بمنہ، اور دیگر علاقوں کے بازاروں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی کیونکہ سڑکوں پر جگہ جگہ پر چھاپڑی فروشوںنے چھاپڑی لگائی تھی جن پر ملبوسات کے ساتھ ساتھ کھلونے کی چیزیں سجائی گئی تھی۔اس دوران کئی صارفین نے بتایا کہ نرخ ناموں پر کوئی کنٹرول نہیںہے جس کے نتیجے میں من پسند طریقوں پر دکاندار صارفین سے دام وصول کر رہے ہیںجبکہ دیگر اشیاء کی قیمتوں پر بھی کوئی کنٹرول نہیں ہے۔خریداروں نے بتایاکہ ملبوسات ، بیکری ، ریڈی میڈ گارمنٹس ، جوتوں اور دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بیجا اور بے محل اضافے کی وجہ سے بھی خریدار روایتی خریداری کرنے سے قاصر رہے ۔بھاری رش کی وجہ سے شہر بھر میں ٹریفک جام بھی دیکھا گیا جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔