عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف انجینئر رشید کا احتجاجی مظاہرہ

سرینگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے سوموار کو سرینگر میں دربار مو کھلنے کے موقعہ پرعلحیدگی پسندوں کی نظر بندی اور مغل روڈ سمیت دیگر شاہراہوں کی تعمیر میں سرکاری کی ناکامی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔سیول سکریٹریٹ کھلنے کی تقریب کے چلتے انجینئر رشید اپنے کئی ساتھیوں سمیت مگھرمل باغ کے قریب جمع ہوئے جہاں سے انہوں نے جہانگیر چوک فلائی اور کی طرف پیش قدمی کی۔ انجینئر رشید نے پارٹی کارکنوں کے ہمراہ ریاستی سرکار کی عوام دشمن پالیسیوں ، انسانی حقوق کی پامالیوں، بنیادی سہولیات سے عدم توجہی اور یاسین ملک سمیت تمام قیدیوں کی بلا شرط رہائی کے حق میں زوردار مظاہر کیا ۔جہانگیر چوک میںانجینئر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سیول سکریٹریٹ کھلنے کے موقعہ پر ہر سال رنگ وروغن اور دیگر اخراجات پرکروڑوں روپے خرچ کیا جاتا ہے لیکن اگر یہ رقومات مغل روڈ کے علاوہ دیگر شاہراہوں کی تعمیر وترقی پر صرف کرتے تو شائدحکومت کو دوباردربار سجانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔انہوںنے کہاکہ یہ رقومات مغل روڈ کی تعمیر، کشتوارڑ سنتھن روڈ پر ٹنلوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ٹنگمرگ گلمرگ اور کولگام مہو منگت روڈ کی تعمیر میں صرف کی جاتی تو پورا جموں وکشمیر ایک بن جائے گا اور حکومت کو دربار مو کی ضرورت بالکل بھی نہیں پڑے گی۔ انجینئر رشید نے سرینگر کو مستقل طور پر دارلحکومت بنانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ جب یوپی میں ایک ہی دارالحکومت ہے تو جموں وکشمیر میں دو دارلحکومت کیوں ہیں؟انہوں نے علحیدگی پسندوں کی نظر بندی پرحکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ان کی رہائی میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں اور کشمیریوں کو ہر طرف ستایا جارہا ہے ۔انہوں نے حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی کے پوتے کو دلی بلانے سے کشمیریوں کے حوصلے کمزور نہیں ہوں گے بلکہ علحیدگی پسندوں کی قید وبند اور دلی طلبی سے کشمیر یوں کے حوصلے مضبوط تر ہو جائیں گے ۔انہوں نے’’ استاد رضوان احمد پنڈت کی حراستی ہلاکت میں مبینہ طور پرملوث پولیس اہلکار کو حراست میں نہ لینے پرحکومت کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اونتی پورہ کے رضوان کو پولیس اسٹیشن بلا کر حراستی تشدد کے دوران قتل کیا گیا اور پھر کچھ پولیس اہلکاروں نے بڑے ناپاک اندازے میں کہا کہ وہ جیل سے بھاگنے کی کوشش میں مارا گیا‘‘ ۔انجینئررشید نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رضوان پنڈت کے قتل میں جتنے لوگ ملوث ہیں ان کو فوری طور پر قانونی شکنجے میں لائیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہرے کے زریعے ہم سڑکوں کی خراب حالت، بجلی ، پانی اور اسکولوں میں اساتذہ کی غیر موجودگی کے سبب بڑھتے عوامی تشویش کی جانب گورنر انتظامیہ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔