عمر اور محبوبہ کاکٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم

سرینگر/سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی نے سوموار کو کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کو قانون اور انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔

دونوں لیڈروں نے مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا کی وکالت کی۔

عمر اور محبوبہ نے کٹھوعہ کیس کے عدالتی فیصلے کے سلسلے میں الگ الگ ٹویٹ کرکے اپنے جذ بات کا اظہار کیا۔

اس سے قبل پٹھانکوٹ کی ایک خصوصی عدالت نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں چھ ملزموں کو مجرم قرار دیدیا۔ مجرم قرار دئے گئے افرد میں رسانا گائوں کا مکھیہ سانجی رام،دو ایس پی او دیپک کھجوریہ اور سریندر ورما، ہیڈ کانسٹیبل تلک راج ، سب انسپکٹر آنند دتا  اورپرویش  کمار شامل ہیں۔ اس کیس کے ساتویں ملزم کیخلاف الگ سے ٹرائیل چلایا جائے گا جبکہ آٹھویں ملزم کو عدالت نے بری قرار دیا ہے۔

آٹھ سالہ خانہ بدوش لڑکی کی عصمت دری اور قتل کیس کے واقعہ کی پٹھانکوٹ کی عدالت میں سماعت لگ بھگ ایک سال قبل شروع ہوئی تھی اور آج عدالت کی طرف سے اس معاملے کو لیکرفیصلہ سنا یا گیا۔

اطلاعات کے مطابق مجرموں کی سزا کے بارے میں عدالت کا فیصلہ دن کے دو بجے سامنے آئے گا۔