بانہال // تحصیل و تعلیمی زون کھڑی ضلع رام بن کے پرائمری سکول پتنالہ پنچایت ترگام کی سکول عمارت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے یہاں زیر تعلیم سکولی بچوں اور والدین نے کئی مقامی لیڈروں کے ہمراہ تحصیل ہیڈکواٹر کھڑی میں برستی بارش میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ منگل کے روز تیز بارشوں اور کپکپاتی سردی میں بھی سات سے آٹھ کلومیٹر پیدل سفر طے کرکے سرکاری پرائمری سکول پرنگہ ، پتنالہ زون کھڑی سے تعلق رکھنے والے تیس کے قریب بچوں نے کھڑی قصبہ میں زردار احتجاج کیا اور محکمہ تعلیم کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ بچوں نے سکول عمارت کے قیام اور انہیں انصاف فراہم کرنے کی عبارات لکھے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ تحصیل اور پولیس افسروں نے کھڑی میں احتجاجی مظاہرین کو یقین دلایا کہ سکول عمارت جلد از جلد قائم کی جائے گی اور اس کیلئے اعلیٰ حکام کو مطلع کیا گیا ہے ۔ پرائمری سکول میں پتنالہ ، پرنگہ دیہات کے گوجر اور کشمیری بچے اس سکول میں زیر تعلیم ہیں جہاں 2002 میں سکول کے قیام کے بعد سے ابتک سکول عمارت تعمیر نہیں کی گئی ہے اور کئی سالوں سے یہ بچے ایک اسلامی درسگاہ کو اپنا مسکن بنائے بیٹھے تھے جہاں سے اب انہیں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے نکالا گیا ہے اور بچے ایکبار پھر کھلے اسمان کے نیچے آگئے ہیں۔احتجاجی مظاہروں میں شامل چودھری شبیر احمد صدر ال ٹرائبل کوارڈی نیشن کمیٹی ضلع رام بن ، گلزار احمد ، جمال الدین پڈر، الطاف چودھری اور روشن دین نے الزام لگایا کہ محکمہ تعلیم نے تحصیل کھڑی کے سکولی بچوں کے مستقبل کو نظر انداز کر رکھا ہے اور پتنالہ اور پرنگہ کے بچے اور والدین 2003 سے سکول عمارت کا انتظار کر رہے ہیں لیکن پندرہ سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود بھی سکول عمارت تعمیر نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2003 عیسوی میں اس سکول کو بنانے کیلئے چار لاکھ روپئے بھی منظور ہوئے ہیں لیکن اسکی تعمیر محکمہ تعلیم اور سروا شکھشا ابھیان کے ملازمین کی عدم توجہی کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہا کہ اس سلسلے میں چیف ایجوکیشن افسر رام بن نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ علاقے کا دورہ کرینگے اور موجودہ تخمینہ کے مطابق سکول عمارت کی تعمیر کیلئے فنڈس واگذار کئے جائیں گے۔ انچارج پولیس پوسٹ کھڑی وسیم المعراج نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ وہ ان کے اس دیرینہ مسئلے کو اعلی حکام کی نوٹس میں لا چکے ہیں اور اس ضمن میں ضلع حکام سے مناسب کاروائی کی اپیل کی گئی ہے ۔ اس یقین دھانی کے بعد طلبا نے اپنا احتجاجی دھرنا ختم کیا اور سکول عمارت ملنے کی امید قوی کے ساتھ بارش میں بھیگتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کا رخ کیا ۔