عسکریت کے گراف میں اضافہ کیلئے پی ڈی پی کی پالیسیاں ذمہ دار: نیشنل کانفرنس

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا ہے کہ پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے ملی ٹنسی کا گراف وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نوکری یافتہ نوجوانوں کو بھی سخت فیصلے لینے کیلئے مجبور کیا گیا۔نوائے صبح کمپلیکس میں مختلف علاقوں آئے ہوئے نوجوانوں کے وفود کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے عمران ڈار نے کہاکہ  پی ڈی پی نے 2015میں اقتدار میں آکر کشمیری نوجوانوں کے جذبات اور احساسات کا استحصال کیا اور الیکشن کے دوران نوجوانوں کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں سے منحرف ہوکر نئی نسل کیخلاف براہ راست جنگ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں ہی ریاست امن و امان کی بہاریں دیکھ سکتی ہے اور تعمیر و ترقی کا دور دورہ ہوسکتا ہے۔عمران ڈار نے کہاکہ 2014کشمیر میں ہر سو امن تھا اور ہر طرف تعمیر و ترقی کا دور تھا لیکن 2015میں پی ڈی پی ۔بھاجپا کی مخلوط حکومت کے قیام کے ساتھ ہی کشمیر میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت حالات بگاڑے گئے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی والوں نے الیکشن سے قبل نوجوانوں کی حکومت، نوجوانوں کا سال ، بے روزگاری کے خاتمے اور دیگر کئی فریبی نعرے دیئے تھے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں کیساتھ فریب کیا گیا۔ عمران ڈار نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے ’نیا کشمیر ‘منشور میں نوجوانوں کے رول کواہمیت دی گئی ہے اور پارٹی نے ہمیشہ نئی نسل کے بہتر او رروشن مستقبل کیلئے انہیں صحیح سمت دینے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس کے نوجوان قائد عمر عبداللہ نے بحیثیت وزیر اعلیٰ نوجوانوں کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل فیصلے لئے اور گراں قدر اقدامات کئے اور  اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمر عبداللہ ہی نوجوانوں کی بہتری کیلئے صحیح اقدامات کر سکتے ہیں۔عمران ڈار نے کہا کہ عمر عبداللہ نے بحیثیت وزیر اعلیٰ اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے ۔عمر عبداللہ کے دورِ اقتدار میں ہی ریاست کا ہر ایک شعبہ ترقی پذیر تھا اور سب سے بڑھ کر چاروں طرف امن و امان کی فضاء قائم تھی۔