عسکریت پسندوں کی املاک کی تباہی پر ڈی جی پی سے رپورٹ طلب

سرینگر// انسانی حقوق کمیشن نے ریاستی پولیس سربراہ سے جنگجوئوں کے مکانوں اور جائیداد کو نقصان پہنچانے پر رپورٹ طلب کی ہے،جبکہ نوہٹہ میں گزشتہ جمعہ کو سی آر پی ایف کی گاڑی سے نوجوان کو کچلنے سے متعلق ایس ایس پی سرینگر کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ۔کمیشن میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی جائیداد اور مکانات کو نقصان پہنچانے سے متعلق محمد احسن اونتو کی عرضی پر سماعت ہوئی ۔ کمیشن  نے ریاستی پولیس سربراہ کو اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔اونتو نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ عسکریت پسندوں کے اہل خانہ اور انکی جائیداد کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں کسی بھی پیچیدہ صورتحال  کے دوران تحفظ فراہم کیا جائے،تاہم عرضی میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فورسز نے ایک سخت گیر طریقہ کار اختیار کیا ہے،جس کے تحت جاںبحق جنگجوئوں کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جاتا ہے۔عرض گزار کا کہنا ہے کہ فورسز متواتر طور پر جنوبی کشمیر میں جنگجوئوں کی جائیداد،مکانات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ جاں بحق عساکروں کے قبروں کی بے حرمتی کر رہی ہے،جبکہ قبروں کی بے حرمتی اور انہیں مسمار کرنا انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے،اور بشری حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔عرضی میں کہا گیا کہ فورسز باغات کو بھی نذر آتش کر رہی ہے،اور اس پر اعتراض کرنے کی پاداش میں مالکان باغات اور احتجاجی نوجوانون کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین کی طرف سے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش کی گئی عرضی میں مزید کہا گیا ہے’’ لوگوں کو تحفظ فرہم کرنے کے برعکس  فورسز پرامن ماحول میں رخنہ ڈال رہی ہے،اور لوگوں کو احتجاج ،    نفرت کے چکر اور ہلاکتوں کیلئے مشتعل کر رہی ہے۔ کمیشن سے درخواست کی گئی کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے دانستہ طور پر مکانات اور جائیداد کو نقصانات پہنچانے پر روک لگا دی جائے،جبکہ فورسز کو بھی ہدایت دی جائے کہ جاں بحق اور سرگرم جنگجوئوں کے اہل خانہ کو تنگ و طلب نہ کیا جائے۔کمیشن میںنوہٹہ کے قیصر احمد کو کچلنے کے واقعے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے کہا گیا کہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اونتو کی طرف سے دائر درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ فورسز ایجنسیاں ڈرامائی انداز میں خونی کھیل ،کھیل کر نوجوانوں کے احتجاج پر قابو پانے کیلئے انہیں گاڑیوں سے کچلتے ہیں۔اس واقعے کو جمہوریت کے چہرے پر داغ قرار دیتے ہوئے عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائے،جبکہ متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت دی جائے کہ اس گاڑی کے ڈرائیور کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔