عدالتی احکامات کی خلاف ورزی

سرینگر//زاورہ زیون میں عدالتی احکامات کے باوجود کان کنی جاری ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق روزانہ قریب 200گاڑیوں میں پتھر ڈھوئے جاتے ہیں۔ زاورہ زیون میں مقامی لوگوں کی شکایت پر عدالت نے علاقے میں آئندہ سماعت تک کان کنی پر پابندی عائد کی ہے اور اس سلسلے میں محکمہ جیالوجی اور مائننگ کو بھی ہدایات دی گئیں۔تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کو بالائے طاق رکھا گیا ہے اور کان کنی کے مالکان اپنا کاروبار بند نہیںکرنا چاہتے۔ لوگوں کا کہنا ہے ’’ سحری سے قبل ہی مشینوں کے بجائے ہتھوڑوںسے پتھرئوں کو توڑا جاتا ہے اور دن بھر گاڑاں علاقے میں گرد ش کرتی رہتی ہیں‘‘۔ ایک شہری سمیر احمد کاکہنا ہے کہ کان کنی سے مکین خطرے اور خوف میں ہے جس کی وجہ سے پورے علاقے کے لوگ ہر وقت خوف کے سائے میں رہتے ہیں۔ سمیر نے کہا’’ وہ گزشتہ روز باغ میں کام کر رہا تھا اور اچانک مکان سے کچھ میٹروں کی دوری پر ایک بڑا پتھر گرآیااور حادثہ ہونے سے رہ گیا۔‘‘ معراج احمد نامی ایک اور نوجوان نے کہا کہ ایسا اب معمول بن چکا ہے جب پہاڑوں سے پتھر نہ گرتے ہوں۔ لوگوں کاکہنا ہے کہ اس سلسلے میں انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر سے بھی شکایت کی کہ عدالتی احکامات کے باوجود زاورہ میں کان کنی کام کام ہو رہا ہے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔لوگوں کی شکایت کے بعد ایڈیشنل ڈسڑکٹ مجسٹریٹ سرینگر نے ضلع مینرل آفسر کو عدالتی احکامات کو عملانے کی ہدایت دی جبکہ انہیں ایس ایچ او پانتہ چھوک اور متعلقہ تحصیلدار سے بھی تعاون حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ضلع مینرل افسر سرینگر سراج احمد کا تاہم کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کا زمینی سطح پر اطلاق کیا جا رہا ہے۔کشمیر عظمیٰ کے سات بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ30 احکامات کے شرائط کے تحت کان کنی جاری تھی تاہم اس کے بعد ان احکامات کی توسیع نہیں ہوئی جس کے نتیجے میں کان کنی کے کام کو روکا گیاہے۔انہوں نے کہا ’’ عدالت نے لائنسنس زاور پٹے(لیز) کو کان کنی کیلئے ضروری قرار دیا جبکہ متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی گئی کہ جب تک مالکان کان کنی کے لوازمات پورا کرتے ہیں تب تک انہیں رائلٹی پر کام کرنے کی اجازت دی جائے۔‘‘،تاہم سرتاج احمد کے مطابق بعد میں اس حکم نامہ کی توسیع30اپریل کے بعد نہیں ہوئی اور کام کو روکا گیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں پولیس کے تعاون سے انہوں نے کان کنی کے مقامات کا معائنہ کیا جہاں پر ہتھوڑوں سے کام ہو رہا تھا،اور وہ سامان بھی ضبط کیا گیااور انہیں خبردار کیا گیا۔ڈسڑک مینرل افسر نے بتایا کہ جب بھی انہیں شکایات موصول ہوتی ہیں تو وہ فوری طور پولیس کو بھی مطلع کرتے ہیں اور کاروائی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کام جاری تھا،اس وقت بھی انہیں نشاندہ کلسٹرکے حدود سے10 میٹر اندر کام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔