صورہ ہسپتال میں جگر کی تبدیلی کا مخصوص یونٹ قائم ہوگا

 سرینگر //شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں جگر کی تبدیلی کا مخصوص یونٹ بہت جلد قائم کیا جائے گا۔ سکمز صورہ میںکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال کے شعبہ Surgical Gastroentrologyمیں بھرتی عمل جلد مکمل ہوگا اوربھرتی ہوئے نئے ڈاکٹروں میں سے چند ڈاکٹروں کو جگر کی منتقلی میں مہارت حاصل کرنے کیلئے دلی بھیجاجائے گا۔ سکمزمیں جگر کی منتقلی کیلئے مخصوص یونٹ قائم کرنے پر بات کرتے ہوئے شعبہ Medical Gastroentrologyکے سربراہ ڈاکٹر جی ایم ایتو نے بتایا ” سیکمز میں جگر کی منتقلی کے مخصوص یونٹ کو قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وادی میں گندے پانی کی سپلائی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگ کلیجہ کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں ۔“ انہوں نے کہا کہ وادی میں حالیہ دنوں میں دو مریضوں میں Liver fluckبھی پایا گیا ہے جو بیماری دنیا میں پہلی مرتبہ کشمیر میں پائی گئی ہے اور پانی سے پھیلنے والی دیگر کئی بیماریاں لوگوں میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جگر کی منتقلی کا سینٹر کام کرنے میں بڑی رکاوٹ ماہر عملہ کی عدم دستیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکے لئے نرسوں سے لیکر ڈاکٹر بھی تجربہ کار اور ماہر چاہئے اور اسلئے تربیت کیلئے ڈاکٹروں کا باہر بیجنا ہوگا۔شعبہ Surgical Gastroentrologyکے سربراہ اور ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر عمر جاوید شاہ نے بتایا ” مجھے اُمید ہے کہ آئندہ دو تین سال میں وادی میں Liver Transplant Unit شروع کرنے میں کامیاب ہونگے۔ “انہوں نے کہا کہ یونٹ قائم کرنے کیلئے عملہ کی ضرورت ہے اور ڈاکٹروں کی بھرتی کے بعد ہی چند ڈاکٹروں کو بیرون ریاست تربیت کیلئے بھیجا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے ہم نے دلی کے Medicityنامی ادارہ سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے ہیں جس کے بعد ہم Medicityکے اشتراک سے وادی میں جگر کی منتقلی کی سہولیات بھی شروع ہونگی۔انہوں نے کہا کہ وادی میں Liver Transplantسہولیات شروع کرنے کیلئے لوگوں، انتظامیہ اور حکومت کے مدد کی ضرورت پڑے گی۔ واضح رہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں جگر کی منتقلی کا مخصوص سینٹر نہ ہونے کی وجہ سے وادی کے مریضوں کو جگر کی منتقلی کیلئے بیرون ریاستوں میں قائم اداروں کا رخ کرنا پڑتا ہے جس پر انہیں لاکھوں روپے صرف کرنے پڑتے ہیں۔