صارفین کو مزید راحت،مرکز سے مزید293میگاواٹ مختص بجلی بلوں میں ایک روپے اضافے کا امکان:پرنسپل سیکریٹری پاور

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر// شدید سردیوں کے دوران بجلی کے صارفین کو دی گئی ایک اور راحت میں، حکومت ہند نے مغربی بنگال، بہار اور یہاں تک کہ بھوٹان کے دور دراز کے پاور ہائوسز سے بجلی کی منتقلی کے ذریعے، جموں و کشمیر کو تقریباً 293میگاواٹ بجلی میں اضافہ کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر بنیادی طور پر پن بجلی پر منحصر ہے، سردیوں کے دوران دریائوں میں پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے پیداوار میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے سردیوں کے دوران سردیوں کے دوران خسارے کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 85 فیصد بجلی تھرمل پلانٹس سے حاصل کی جاتی ہے۔ موجودہ مالی سال کے دوران، UT نے سولر پاور کے 1600 میگاواٹ، ہائیڈرو سے 900 میگاواٹ، اور تھرمل پلانٹس سے اضافی 500 میگاواٹ کے لیے تاریخی پاور پرچیز ایگریمنٹس کیے ہیں۔

 

اددھرحکام نے بدھ کے روز کہا کہ حالیہ 500 میگاواٹ تھرمل پاور خریداری معاہدے کی قیمت میں پن بجلی کے موجودہ ٹیرف کے مقابلے میں ایک روپیہ فی یونٹ ٹیرف بڑھنے کا امکان ہے۔پرنسپل سکریٹری پاور ڈیولپڈ ڈپارٹمنٹ ایچ راجیش پرساد نے کہا کہ نئے خریدے گئے 500 میگاواٹ کو چینلائز کرنے کا عمل جلد ہی موصول ہو جائے گا۔انہوں نے کہا”ہم ہائیڈرو پاور پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دسمبر2024 تک جموں کشمیر میں بھی شمسی توانائی ہوگی۔500 میگاواٹ بجلی کی خریداری کے حالیہ معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی اس کی اجازت دے چکی ہے۔ فی یونٹ نظرثانی شدہ ٹیرف کے بارے میں پوچھنے پر پرساد نے کہا کہ یہ معاہدہ تھرمل پاور کے لیے ہے۔انہوں نے کہا”تھرمل پاور کی بنیادی شرح ممکنہ طور پر ہائیڈرو اور سولر پاور سے تھوڑی زیادہ ہوگی”۔انکا کہنا تھا ’’پن بجلی کی قیمت تقریباً 4 روپے 50 پیسے فی یونٹ ہے تاہم تھرمل بجلی کی قیمت موجودہ شرح سے تقریباً ایک روپے فی یونٹ بڑھ کر 5 روپے 25 پیسے یا 5 روپے 50 پیسے ہو سکتی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر تھوڑا مہنگا ہوگا لیکن ہمیں سپورٹ کے لیے اس بیس بوجھ کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بہت ہی معقول ریٹ ہے”۔