شیپ فارمنگ سیکٹر کا احیائے نو| نیوزی لینڈ کیساتھ مفاہمت

قالینوں کی سرٹیفکیشن اور لیبلنگ کیلئے کیو آر کوڈ پر مبنی میکانزم کا آغاز 

 
جموں//حکومت جموں و کشمیر نے شیپ فارمنگ سیکٹر کو تبدیل کرنے کیلئے نیوزی لینڈ جی 2 جی کیساتھ تعاون کی ایک یاداشت ( ایم او سی ) پر دستخط کئے ہیں ۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر اور نیوزی لینڈ کے درمیان نئی شراکت داری یو ٹی کے مویشیوں کے شعبے میں پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دے گی ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ایم او سی کا بنیادی مقصد کسانوں کے معاوضے کو بہتر بنانا ، تحقیق اور ترقی میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کی بھیڑوں کی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نیوزی لینڈ عالمی سطح پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا ایک اہم شراکت دار ہے اور ہماپنے تعلقات کو نہ صرف گہرے بندھنوں اور ثقافتی وابستگیوں کی وجہ سے بلکہ اپنے اسٹریٹجک کنورجنس ، عالمی مفادات اور اقتصادی صلاحیت کی پختہ سمجھ کی وجہ سے بھی خصوصی قدروں کو جوڑتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو برسوں سے عالمی وبائی امراض کے ہنگامہ خیز واقعات کے باوجود ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے تعلقات میں تقریباً ہموار تسلسل رہا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ اس سال دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے آغاز کی 70 ویں سالگرہ ہے اور یہ ہمیں اپنی شراکت داری کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ایک طویل مدتی ، باہمی مضبوط اقتصادی تعلقات کی مضبوط عمارت بنانے کے ہمارے عزم کو تقویت دیتا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ نئی شراکت داری کا مقصد اگلے تین برسوں میں مویشیوں کی مصنوعات کے معیار میں خاطر خواہ اضافہ ، اون کی پیداوار اور پروسیسنگ کی سہولیات متعارف کرانے اور جموں کشمیر کی آمدنی اور فوائد کو بڑھانے کیلئے ویلیو ایڈیشن کے ساتھ پیداوار کو دوگنا کرنا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حکومت نے پچھلے ڈھائی برسوں میں مختلف شعبوں میں بے مثال اصلاحات کی ہیں ۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کی قیادت ہمارے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے وسیع امکانات پر یقین رکھتی ہے ۔ نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر ایچ ای ڈیوڈ پائن نے امید ظاہر کی کہ معاہدے کا تعاون جموں و کشمیر اور نیوزی لینڈ کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور زمینی سطح پر مطلوبہ نتایج حاصل کرنے میں مدد کرے گا ۔ 

ہوم سٹے

جموں وکشمیر حکومت اور دُنیا کے معروف ٹریول ٹیک پلیٹ فارم  او  وائی  او گروپ نے راج بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی صدارت میں ایک خصوصی تقریب میں ’’ کرائون آف اِنکرایڈیبل اِنڈیا ‘‘پروجیکٹ کے تحت رورل ہوم سٹے کا آغاز کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے ہوم سٹے یونٹ قائم کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کے لئے 50,000 روپے خصوصی مالی اِمداد کا ااعلان کیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ دیہی جموںوکشمیر میں عالمی معیار کے سیاحتی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد کرے گا۔ اِس برس دسمبر تک او  وائی  او پلیٹ فارم کے تحت تقریباً 200 ہوم سٹے دستیاب ہوں گے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ٹورسٹ وِلیج نیٹ ورک کے تحت شامل دیہاتوں میں بہتر سڑک رابطہ، پانی اور بجلی کی فراہمی ، موبائل اور اِنٹرنیٹ کنکٹوٹی کو یقینی بنایاجارہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا کہ ہم نوجوانوں اور سیلف ہیلپ گروپوں کو سیاحتی گائوں کے نیٹ ورک میں بڑے پیمانے پر جوڑنے اور انہیں دیہی جموںوکشمیر کی تبدیلی کا حصہ بننے کا موقع فراہم کرنے کے لئے منظم طریقے سے کوششیں کر رہے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ مشن یوتھ کے تحت جموںوکشمیر یوٹی حکومت 500 نوجوانوں کو ہوم سٹے کے قیام میں مدد فراہم کرے گی۔

قالینوں کیلئے کوڈ

لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے QR کوڈ پر مبنی میکانزم کا آغاز کیا جو کہ جموںوکشمیر کے ہاتھ سے بنے ہوئے قالینوں کی تصدیق اور لیبلنگ کے لئے ملک میں اَپنی نوعیت کا پہلا طریقہ ہے۔QR پر مبنی ایپلی کیشن سے صارفین جموںوکشمیر یوٹی میں تیار کردہ قالینوں کی صداقت اور دیگر مطلوبہ تفصیلات کی جانچ اور تصدیق کرسکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر ہینڈ لوم اور دستکاری کی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ اِنڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپٹ ٹیکنالوجی نے کشمیری قالینوں کو فروغ دینے کے لئے جی آئی سرٹیفیکیشن، ٹیسٹنگ، لیبلنگ اور تربیت کی خاطر کئی اہم اقدامات کئے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا،’’ حکومت جموںوکشمیر نے ایکسپورٹ انسین ٹیو سکیم متعارف کی ہے ۔اِس سکیم کے تحت کسی بھی ملک کو برآمد کی جانے والی جی آئی سرٹیفائیڈ دست کاری اور ہینڈ لوم مصنوعات کے کل 10فیصد کی ترغیب ، زیادہ سے زیادہ پانچ کروڑ روپے کی ادائیگی کے ساتھ دستکاری او رہینڈلوم ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹرڈ اہل برآمد کنندگان کو فراہم کئے جائیں گے۔