شوپیان ہلاکتوں کے خلاف ہمہ گیر ہڑتال

    سرینگر//شہری ہلاکتوں کے خلاف وادی سمیت چناب خطے میںہڑتال جاری رہی۔ اس دوران سرینگر کے پائین و مضافاتی علاقوں کے علاوہ شوپیاں، پلوامہ،ترال پانپور، کولگام، بڈگام اور کپوارہ میں پتھرائو کے واقعات اورپیلٹ وٹیر گیس شیل کی زد میں آکر15افراد زخمی ہوئے۔پانپور اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگوں نے فورسز پر توڑ پھوڑ اور ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔اس دوران سرینگر میں چوتھے روز انٹرنیٹ سہولیات معطل رہیں،جبکہ بانہال،بارہمولہ ریل سروس بھی ٹھپ رہی۔
 احتجاج و سنگبازی
ہلاکتوں کے خلاف وادی کے کئی علاقوں میں چوتھے روز بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا،جس کے دوران ٹیر گیس ،پیلٹ اور بلٹ س متعدد افراد زخمی یوئے۔عینی شاہدین کے مطابق سرینگر کے پانتھ چوک علاقہ میں اُس وقت افرا تفری کا ماحول بپا ہوا جب مبینہ طور پر فورسز علاقے کی ایک مسجد میں’’تحریکی نغموں‘‘،جو کہ لائوڈ اسپیکروں پر بج رہے تھے، کو بند کرنے کیلئے علاقے میں داخل ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے احتجاجی جلوس برآمد کرتے ہوئے وہاں موجود فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کرتے ہوئے زور دار نعرہ بازی کی۔ مظاہرین نے اسلام اور آزادی کے حق میں بھی نعرے لگاتے ہوئے فورسز اہلکاروں پرپتھرائو کیا جس کے نتیجے میں فورسز اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ٹیر گیس کے کئی شیل داغے۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے3نوجوانوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی۔اس دوران رعناواری میں شیراز سنیما کے نزدیک نوجوانوں اور فورسز و پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،جس کے دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے بھی داغے۔مقامی لوگوں نے فورسز پر علاقے کے ایک بجلی ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ پائین شہر کے نائد یار رعناواری میں اس وقت3نوجوان زخمی ہوئے،جب وہ احتجاج کر رہے تھے۔مقامی لوگوں کے مطابق نوجوان جمع ہوئے اور نعرہ بازی کر نے لگے۔اس دوران پولیس بھی وہاں پہنچی اور نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس گولہ داغا۔عینی شاہدین کے مطابق نوجوانوں نے پولیس پر سنگبازی کی،جبکہ پولیس نے پیلٹ کا استعمال کیا،جس کے دوران3نوجوان زخمی ہوئے،جن میں ایک نوجوان کی آنکھ میں پیلٹ لگ گیا۔اس دوران شہر کے صفا کدل میں گزشتہ روز پولیس کی گاڑی سے کچل کر جان بحق ہونے والے نوجوان کی فاتحہ خوانی کی گئی،جس کے دوران کافی لوگوں نے عادل احمد کے گھر جاکر اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔تحریک حریت کے سنیئر کارکن عمر عادل ڈار نے عادل احمد بڈو صفاکدل ملک صاحب کے گھر جاکر تعزیت کی اور تعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نازک مرحلے پر اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔پائین شہر کے کئی علاقوں میں شام کے وقت سنگبازی ہوئی۔عینی شاہدین کے مطابق ذالڈگر میں سید منصورؒ پل کے نزدیک فورسز اور نوجوان کے درمیان سنگبازی ہوئی،جس کے دوران فورسز نے اشک آوار گولوں اور پیلٹ کا استعمال کیا،جس میں قریب4نوجوان زخمی ہوئے۔بمنہ ہاوسنگ کالونی اور جے وی سی کے نزدیک منگل کی شام کو سنگبازی اورٹیر گیس شلنگ کے واقعات رونما ہوئے۔ فورسز اہلکاروں کی جانب سے بونی گام قاضی گنڈ میں رہائشی مکانوں و گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کیا اور سرینگر جموں شاہراہ پر دھر نا دیا ۔بڈھام کے ڈانگر پورہ میں نوجوانوں نے فورسز اور پولیس پر سنگبازی کی،جبکہ فورسز نے بھی جوابی سنگبازی کی۔اس دوران کپوارہ کے لنگیٹ پال پورہ میں نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھرائو کیا جس کے نتیجے میں فورسز اہلکاروں نے مشتعل ہوکر مکانات کی توڑ پھوڑ کی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے مشتعل ہوکر مکانات کے شیشے توڑ دئے اوربلالحاظ عمر لوگوں کا زدوکوب کیا جس سے علاقہ میں تنائو کی صورتحال بپاہوئی۔ ضلع کے ہی نطنوسہ علاقہ میں بھی مشتعل نوجوانوں نے جلوس نکال کر اسلام و آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ نوجوانوں نے اس موقعہ پر شوپیان میں فورسز اہلکاروں کی طرف سے عام شہریوں کو ہلاک کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور علاقہ میں موجود فورسز اہلکاروں پر پتھرائو کیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار پتھر لگنے سے زخمی ہوگیا۔ پلوامہ کے مین ٹائون، مورن چوک، آری ہل، ہسپتال روڑ میں بھی نوجوانوں نے فورسز مخالف مظاہرے کرتے ہوئے سنگ باری کی جبکہ بعد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز نے کئی مقامات  تعاقب کیا۔اس دوران ترال میں بھی معمولی سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے۔پانپور کے کدلہ بل علاقے میں مقامی لوگوں نے فورسز پر گھروں کی توڑ پھوڑ کا الزام عائد کیا۔انہوں نے بتایا کہ علاقے میں سنگبازی کے  واقعے کے بعد فورسز نے نوجوانوں کا تعاقب کیا،اور مکانوں پر پتھرائو کر کے شیشوں کو چکنار چور کیا۔ دریں اثناکولگام میں بھی نوجوانوں اور خواتین نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مخلوط حکومت اور فورسز کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق کولگام کے کھڈونی اور کیموہ میں نوجوانوں نے فوجی گاڑیوں پر دن بھر وقفہ وقفہ سے سنگبازی کی۔
ہڑتال جاری
ہلاکتوں کے خلاف مسلسل چوتھے روز بھی وادی کے یمین و یسار میں مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوگئی۔ کاروباری و تجارتی مراکز،پیٹرول پپمپ،نجی ادارے مقفل رہے۔ ہڑتال کی وجہ سے ٹریفک کی آمدرفت بھی مسدود ہوکر رہ گئی جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین حاضری پر جزوی اثرات دیکھنے کو ملے۔  ٹرانسپورٹ سرگرمیاں معطل رہی ۔ ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے ا ور بیشترسرکاری و غیر سرکاری دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی ٹھپ رہی ۔سول لائنز کے لال چوک ،ریگل چوک ،کوکر بازار ،آبی گذر ،کورٹ روڈ ،بڈشاہ چوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،مہاراجہ بازار ،بٹہ مالو اور دیگر اہم بازاروں میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے اور ٹرانسپورٹ سروس معطل رہی۔ہڑتال کی وجہ سے شہرمیں ہر قسم کی سرگر میاں متاثر رہی اور لوگوں نے زیادہ ترگھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے شہر میں خاموشی چھائی رہی ۔ وسطی ضلع بڈگام اور گاندربل کے علاقوں میں بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ گاندربل کے تولہ مولہ،صفا پورہ، اور دیگر علاقوں میں کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر مسافر گاڑیوں کی آمد و درفت بھی معطل رہی۔کنگن،گنڈ،گگن گیر میں بھی مکمل ہڑل سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔شمالی کشمیر کے تینوں اضلاع میں مکمل ہڑتال رہی ۔بارہمولہ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران تمام بازار اور کاروباری و تجارتی مرکز بند رہیں،جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی۔سوپور میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔پٹن میں ہڑتا ل سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔ سرحدی ضلع کپوارہ میں بھی مکمل ہڑتال رہی،اور اس دوران لنگیٹ،ترہگام،لعل پورہ،کرالہ پورہ سمیت دیگر علاقوں میں  ہڑتال رہی۔بانڈی پورہ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران حاجن،سوناواری، نادی ہل، کلوسہ، وٹہ پورہ ،اشٹنگو اجس، صدرکوٹ بالا گرورہ ، نائندکھے ودیگر مقامات پر ہڑتال رہی، البتہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔نامہ نگارعازم جان کے مطابق سڑڑکوں پر گاڈیوں کی آوا جاوی مکمل طور پر معطل رہی ہے اور سڑکوں پر پتھر رکھ کر جگ جگ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے نقل و حمل کو روک دی گئی ہے۔ضلع اننت ناگ میں بھی مکمل ہڑتال رہی ضلع کے حسا س مقامات بجہباڑہ ،لالچوک ،کھنہ بل اور ڈورو میں کسی بھی امکانی گربڑ کو روکنے کیلئے اضافی اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق ضلع میں تمام تجارتی ادارے بند رہے جبکہ دفاتروں میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی ،ہڑتال کے سبب پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔اس دوران نامہ نگار عارف بلوچ کے مطابق قاضی گنڈ ،ونپوہ اور دیوسرمیں ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران تمام تجارتی مراکز ،دفاتر،بنک بند رہے ،جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔ضلع کے ڈورو،ویری ناگ ،کوکرناگ ،عشمقام ،لارکی پورہ اور دیلگام میںمکمل ہڑتال رہا جس کے سبب معمول کی زندگی متاثر رہی۔ کولگام میں بھی مکمل ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق ضلع کے کھڈونی،کیموہ،اوکے،محمد پورہ،فرصل اور دیگر علاقوں میں ہڑتال کی وجہ سے زندگی کی رفتار تھم گئی۔شوپیان میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔بیشتر علاقوں میں خوف و ہراس کاماحول رہا،جبکہ تمام علاقوں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔اس دوران شہر خاص میں تیسرے روز بھی حساس علاقوں میں بندشوں کا سلسلہ جاری رہا،جس کے دوران5 تھانوں کے حدود مین آنے والے علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔
مواصلاتی بریک ڈائون جاری
 وادی کشمیر میں ریل رابطے بھی ہنوز منقطع ہو کر رہ گئے ۔منگلوار کو ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل سروس مسلسل تیسرے روز بھی معطل رہی ۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ملنے والی ہدایات پر بارہمولہ،بانہال ریل سروس معطل رکھی گئی ۔ادھر انتظامیہ کاکہنا ہے کہ یہ تمام تر اقدامات عوامی جان ومال کی حفاظت کیلئے اٹھائے جارہے ہیں ۔۔ وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات بھی گزشتہ4روز سے بیشتر اضلاع میں ہنوز معطل ہیںتاہم منگل کی شام کو سرینگر سمیت کئی اضلاع میں انٹرنیٹ سہولیات بحال کی گئیں