شوپیان میں مختصر تصادم آرائی،2حزب جنگجوجاں بحق

شوپیاں+سوپور//شوپیان کے ایک مضافاتی علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان گولیوں کے مختصر تبادلے میں2مقامی حزب جنگجو جاں بحق ہوئے ۔ان میں سے ایک بی ٹیک طالب علم محض 3روز قبل جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔اس دوران شوپیان قصبہ سمیت متعدد علاقوں میں پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جبکہ ضلع میں انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی۔ادھر سوپور میں ایک مقامی فوجی اہلکار کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

تصادم کیسے ہوا؟

پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں اس بات کی مصدقہ طور پر اطلاع ملی تھی کہ لوس دینو امام صاحب اور پڈ گوژھو کے درمیان میوہ باغات میں جنگجوئوں کا ایک گروپ موجود ہے، جس کے بعد سہ پہر ساڑھے تین بجے کے قریب 44آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے میوہ باغات کا گھیرائو کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس دوران جنگجوئوں  نے فورسز پر فائر کھول دیا جس کے بعد فائرنگ کا مختصر تبادلہ ہوا جس میں 2جنگجو مارے گئے جنکی لاشیں بعد میں بر آمد کی گئیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں دیگر جنگجوئوں کی تلاش کیلئے میوہ باغات کو چھان مارا گیا۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ میوہ باغات میں قریب6جنگجو موجود تھے جن میں سے 4فائرنگ کے دوران ہی فرار ہوئے۔

جھڑپیں

گائوں میں جھڑپ کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی پڈ گوژھو ، لوس دینو، بٹہ پورہ شوپیان اورمنی سیکریٹریٹ آرہ ہامہ شوپیان کے نزدیک نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے پتھرائو شروع کیا۔مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔آرہ ہامہ منی سیکریٹریٹ کے نزدیک ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کو پتھرائو سے نقصان بھی ہوا۔اس دوران قصبہ شوپیان، کیگام اور امام صاحب علاقوں میں کاروباری و تجارتی ادارے بند ہوگئے اور ٹریفک کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی جبکہ انتظامیہ نے انٹر نیٹ سروس بھی بند کردی۔

کون تھے جنگجو؟

مسلح تصادم آرائی میں مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت بلال احمد بٹ اور راہل رشید کے طور پر ہوئی۔دونوں جاں بحق جنگجوئوں کی لاشیں رات گئے تک پولیس لائنز شوپیاں میں تھی۔بلال احمد بٹ ولد حبیب اللہ ساکن کیگام کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ31جولائی 2018 کو جنگجوئوں کی سف میں شامل ہوا تھا۔وہ پیشے سے ایک ڈرائیور تھا۔دوسرے جنگجو کی شناخت راہل رشید شیخ ساکن نونر گاندر بل کے بطور کی گئی۔پولیس ریکارڈ کے مطابق راہل رشید بی ٹیک طالب علم تھا اور دو سال پہلے اس نے تعلیم مکمل کی تھی۔اس نے میوات ہریانہ کے ایک کالج سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق وہ 3اپریل کو گھر سے لاپتہ ہوا تھا اور  5اپریل کو اسکے گھر والوں نے پولیس میں گمشدگی رپورٹ درج کرائی تھی۔

سوپور

 وارپورہ سوپور میں ہفتہ کی شام نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک فوجی اہلکار پر گولیاں چلاکر انہیں ہلاک کردیا۔ مہلوک فوجی کی شناخت جیک لائی رجمنٹ سے وابستہ محمد رفیق ایتو کے بطور ہوئی ہے۔ نامعلوم اسلحہ برداروں نے وارپورہ میں محمد رفیق کے گھر میں داخل ہوکر ان پرپے در پے کئی گولیاں چلائیں۔ زخمی فوجی کو فوری طور پر سب ضلع اسپتال سوپور منتقل کیا گیا جہاں انہیں ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا۔ محمد رفیق چھٹی پر اپنے گھر آیا ہوا تھا۔ محمد رفیق پر حملے کے فوراً بعد فورسز نے علاقہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا۔
 

2017لیتہ پورہ حملہ

رتنی پورہ پلوامہ کا نوجوان گرفتار

یو این آئی
 
 سرینگر// قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سال 2017  میں سی آر پی ایف گروپ سینٹر لیتہ پورہ پر ہوئے حملے میں مطلوب چوتھے نوجوان کو ہفتہ کے روز گرفتار کیا۔ لیتہ پورہ میں  2017  میں31 دسمبر کی درمیانی رات کو جیش محمد سے وابستہ جنگجوؤں نے سی آر پی ایف کے گروپ سینٹر پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ سی آر پی ایف اہلکار اور تین جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔این آئی اے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گرفتار شدہ نوجوان جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کا بالائی زمین سرگرم کارکن ہے اُس نے لیتہ پورہ میں واقع سی آر پی ایف کے گروپ سینٹر پر حملہ کرنے والے جنگجوؤں کو پناہ اور دوسری منطقی حمایت فراہم کی تھی۔اس کی شناخت سید ہلال اندرابی ساکن رتنی پورہ کے بطور ہوئی ہے۔این آئی اے نے کہا کہ اندرابی کی گرفتاری کے ساتھ کیس میں ملوث ملزموں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔اس سے قبل اس کیس میں گرفتار شدگان میں فیاض احمد ماگرے ساکن لیتہ پورہ اونتی پورہ، منظور احمد بٹ ساکن پانپور اونتی پورہ اور نثار احمد تانترے ساکن ڈار گنائی گنڈ ترال شامل ہیں۔این آئی اے نے بیان میں کہا کہ اندرابی کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا اور بعد ازاں اس کو پانچ دنوں کی پولیس حراست میں لیا گیا ۔
 

بڈگام میں چھاپے5ا فراد گرفتار

بڈگام // بڈگام میں شبا نہ کریک ڈائون کے دوران5 فراد کو گرفتارکیا گیا ہے۔  جمعہ ا ور ہفتہ کی درمیانی رات فورسز نے بڈگام کے لالہ گام نامی گائوں  میں بعض رہائشی مکانوں میں داخل ہو کر تلاشی لی اور نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کا آغاز کیا۔اس مو قعہ پر فوج نے5نوجوانوں  عرفان احمدٹھوکر، عمرفاروق ڈار، ارسلان مشتاق آ ہنگر، محمد مقبول گنائی اور غلام محمد بٹکو حراست میں لیا ۔نوجوانوں کی گرفتاری کیخلاف مقامی مردوزن کی ایک بڑی تعداد گھروںسے باہر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے کئے۔پولیس ذرائع نے کہا کہ گرفتار شدگان کو پولیس سٹیشن بڈگام میں رکھا گیا ہے۔