شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا

سرینگر //شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا سرکاری منصوبہ ابھی تک ٹھپ ہوتا ہوانظر آرہا ہے ۔ ریاست میں انرجی ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ گذشتہ کئی برسوں سے صرف 450میگاواٹ ہی بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ سرکار نے گذشتہ سال یہ دعویٰ کیا تھا کہ سال2022کے آخر تک سولر سے 1150 میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔ماہرین کی سروے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کو سولر سے 20ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے تاہم محکمہ کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو برس قبل جن بجلی پروجیکٹوں کی سروے اور ٹنڈرنگ کا عمل مکمل کیا گیا اُن پر کام فنڈس کی عدم دستیابی کے سبب رکا پڑا ہے جبکہ کئی ایک جگہوں پر کام انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی سے چھین کر پی ڈی ڈی کو دیا گیا ہے ۔معلوم رہے کہ کئی سال قبل ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں شمسی توانائی سب سے زیادہ جموں وکشمیر کے مشرقی پہاڑی سلسلوں سے پیدا کی جا سکتی ہے جس کے بعد سرکار نے اس کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے یہاں بجلی پروجیکٹ تعمیر کرنے کے منصوبے بنائے، لیکن کہیں پر بھی مکمل کام نہیں کیا جاسکا۔سابق سرکار نے سال2014میں دعویٰ کیا تھا کہ کشمیر وادی میں اس کیلئے کوئی بھی گرڈ نظام قائم نہیں ہے اور 2019تک ترسیل کے علاوہ پیدوار ی نظام قائم کیا جائے گا۔ 2019کے بھی 6ماہ گزر گئے لیکن نہ کہیں گرڈ قائم ہو سکا اور نہ ہی کہیں پیدوار ی صلاحیت میں اضافہ دیکھنے میں ملا ۔سابق سرکار کے دوران اگرچہ جموں وکشمیر انرجی ڈیولپمنٹ محکمہ نے 2برس قبل ہندوارہ کے ماور نالہ پر 4.5میگاواٹ بجلی پروجیکٹ کی سروے اور ٹنڈرنگ کا کام مکمل کیا لیکن تب سے اب تک یہ پروجیکٹ بھی تعمیر کا منتظر ہے۔ ماور میں ہی 10میگاواٹ بجلی پروجیکٹ بھی فنڈس کی عدم موجودگی کی وجہ سے تعمیر کا منتظر ہے ۔کرناہ کے درنگلا علاقے میں نالہ قاضی ناگ پر بھی 10میگاواٹ شمسی توانائی بجلی پروجیکٹ کیلئے زمین کی نشاندہی کی گئی اور اُس کی مکمل سروے بھی ہوئی لیکن کام ہونا ابھی باقی ہے ۔کرالپورہ کپوارہ کے مقام پر نالہ کہمل پر 10میگاواٹ بجلی پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ ہے یہ پاور ہاوس لون ہری کے نزدیک تعمیر کیا جائے گا ، اس کی تعمیر کے حوالے سے بھی کام سست رفتاری کا شکار ہے ۔اسی طرح بنی تحصیل کے کٹھوعہ ضلع میں 9.5میگاواٹ بجلی پروجیکٹ کی تعمیر بھی کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے اور اس کی سروے اور ٹنڈرنگ کا کام مکمل ہو چکا ہے ۔اسی طرح بڑے ہجم کے سولر پلانٹس کٹھوعہ ضلع کے تحصیل بسوہلی کے منگالی ، بھونڈ ، درمن اور ہٹ قائم کئے جانے کا بھی منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن یہ کام بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے ۔یار رہے کہ جموں وکشمیر میں محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر تحت جموں وکشمیر انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی JAKEDAکو1989میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد ریاست میں شمسی توانائی سے بجلی کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں بجلی کے مسائل ہیں اور اُن مسائل کو کم کرنے کیلئے ہی شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنا ماحول دوست اقدامات ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سورج کی دھوپ آلودگی سے پاک ہے اور بہ آسانی میسر ہے۔ اس میں نہ دھواں ہے، نہ کثافت اور نہ ہی آلودگی۔ دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے۔ لیکن کشمیر میں قائم جموں وکشمیر انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ماہرین کے مطابق درجہ حرارت ،سطح سمندر کے علاقوں کی اونچائی، ہوا کی رفتار اور موسم کی صورتحال شمسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کر سکتی ہے ۔ محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک افسر نے بتایا کہ حکام کی جانب سے یہ ہدف رکھا گیا ہے کہ سال2022کے آخر تک 1150میگاواٹ گرڈ سے جڑی سولر پاور حاصل کیا جائے گا اور اب تک 500میگاواٹ کے قریب  بجلی بحاصل کی جا چکی ہے ۔افسر نے مزید بتایا کہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی کی جانب سے 91000انفرادی سولر لائٹس اور3000سٹریٹ لائٹس ایسے دیہات میں نصب کی گئی ہیں جہاں بجلی کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔انہوں نے کہا کہ 250آف گرڈ سولر پلانٹ، جن کی صلاحیت  5-150 کلو واٹ ہے ،ضلع وسب ضلع ہسپتالوں ،کیمونٹی انفارمشین سنٹروں ،تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات پر نصب کئے گئے ہیں ۔ جموں وکشمیر سولر انرجی ایجنسی کے سولر ڈیویژ ن سربراہ خالد محمود نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے سانبہ اور بسوہلی میں ایک سروے کے تحت 100 اور 200میگاوا ٹ پروجیکٹوں کی نشاندہی کی تھی تاہم بعد میں اُن سے یہ منڈیٹ چھین کر محکمہ پی ڈی ڈی کو دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ سانبہ میں 100میگاواٹ کے حوالے سے کچھ زمینی تنازعہ کھڑا ہوا جس کے بعد ہم نے اُس کو کٹھوعہ کے بسوہلی تحصیل میں منتقل کیا جہاں ایک سروے کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ یہ کاغذات ضلع انتظامیہ کو بھی منتقلی کیلئے دئے گئے تھے ۔ہائیڈرولک سیکٹر جکیڈا کے ایگزیکٹو انجینئر عبدالمجید بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کپواڑہ ضلع میں چار بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر کا کام پرائم منسٹر ڈیولپمنٹ پیکیج کے تحت شروع کیا جانا تھا تاہم اس کیلئے درکار پیسہ واگزار نہیں ہو سکا ۔انہوں نے بتایا کہ چھوٹے ہائیڈو پروجیکٹ تعمیر کرنے کیلئے 2ہزار کروڑ کی ضرورت تھی تاہم پیسہ حاصل کرنے کیلئے کوئی بھی گائڈ لائن نہیں بنی تھی جس کے باعث مرکز سے پیسہ نہیں ملا ۔