شاہ نگری گپھا سرکارکی نظروں سے اوجھل،محکمہ آثار قدیمہ سے اقدامات کرنے کی اپیل

کپوارہ//شاہ نگری ماورضلع میں ایک چھوٹا مگر پرسکون گائوںہے ۔اس گائو ں کو قدرت نے اپنے حسن سے نوازا ہے ۔ یہا ں ایک بزرگ شیخ عبد الوہاب کی آخری آ رام گاہ بھی ہے اور وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں زائرین یہا ں آتے رہتے ہیں ۔شیخ عبدالوہاب کے نام سے منسوب شاہ نگری سے تھوڑی دور ایک پہا ڑ ی پر ایک گپھا ہے جو علاقہ بھر میں مشہور ہے جس  بارے میں تاریخ دانو ں نے بھی ذکر کیا ہے۔اس گپھا کے ایک طرف وادی بنگس کے دلکش منا ظر دکھائی دیتے ہیں جو اس گپھا کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہیں ۔ایک مقامی شہری محمد الطاف خادم نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ جہا ں پر یہ گپھا قائم ہے وہا ں جانے کے لئے کسی بھی سڑک کا انتظام نہیں ہے اور نہ ہی محکمہ آثار قدیمہ نے اس کی طرف کوئی توجہ دی اور یہ گپھا پوری طر ح سرکارکی نظروں سے اوجھل ہے ۔سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے شیخ عبد الوہاب کی زیارت پر آنے والے زائرین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ اس گپھاکے تحفظ کیلئے محکمہ آثار قدیمہ نے کو ئی اقدام نہیں کیا اورنہ شیخ عبد الوہاب زیات کی اوقاف کمیٹی نے اس کی طرف توجہ دی ۔معلوم ہوا ہے کہ اس گپھا کوشیخ عبد الوہاب نے اپنی رہائش گاہ کے طور بھی استعمال کیا تھا ۔مقامی لوگو ںنے محکمہ آ ثار قدیمہ سے اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔