ڈوڈہ//سینئر سٹیزن فورم ڈوڈہ کے صدر محبوب احمد ٹاک کی صدارت میں قصبہ کے متعدد معززین کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں مختلف مسائل پر آپسی تبادلہ خیالات عمل میں لایا گیا اور متفقہ طور یہ فیصلہ لیا گیا کہ ڈوڈہ میں کلسٹر یونیورسٹی اورجموں و کشمیر ہائی کورٹ بینچ کے قیام اور دیسہ کپرن سڑک کی تعمیر کے اہلیانِ ضلع ڈوڈہ کے دیرینہ مطالبات کو فوری طور پورا کرنے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالا جائے اور اس سلسلہ میں ایک منظم جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔میٹنگ کے دوران اپنے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے محبوب احمد ٹاک اور عبدالقیوم زرگر نے کہا کہ ڈوڈہ میں کلسٹر یونیورسٹی اور ہائی کورٹ بینچ کا قیام نیز دیسہ کپرن سڑک کی تعمیر اہلیان ڈوڈہ کے اہم مطالبات ہیں جن کو حکومت نظر انداز کرتی آ رہی ہے۔اْنہوں نے کہا ڈوڈہ میں کلسٹر یونیورسٹی اور ہائی کورٹ بینچ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لئے ایک منظم جدوجہد شروع کی جائے گی اور اس کے لئے جو بھی قربانی ضلع ڈوڈہ کے لوگوں کو دینا پڑے وہ تیار ہیں۔اْنہوں نے کہا کہ ڈوڈہ جغرافیائی لحاظ سے چناب ویلی کا مرکز ہے،یہاں کا موسم بھی بہت مناسب اور یہاں کا آپسی بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی مثالی رہا ہے اور آج بھی ہے۔ جموں کشمیر ہائی کورٹ بینچ کے قیام سے یہاں کی غریب عوام کو گھر کی دہلیز پر سستا انصاف ملے گا۔اْنہوں نے کہا کہ ڈوڈہ دیسہ کپرن سڑک کی تعمیر کے مطالبے کو جلد از جلد پورا کیاجانا چاہییکیونکہ اس سڑک کی تعمیر سے پورے خطہ چناب کی مالی و اقتصادی حالت میں بہتری آئے گی اور بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہو گانیز اس سے یہاں کی سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا جس سے یہاں کی معاشی حالت میں بھی سدھار ہو گا۔اْنہوں نے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ ،ایم ایل اے ڈوڈہ شکتی راج پریہاراور پی ڈی پی کے ضلع صدر شہاب الحق بٹ کی ڈو ڈہ میں کلسٹر یویورسٹی کے قیام کے لئے کی جا رہی کوششوں کو سراہتے ہوئے اْن لا شکریہ بھی ادا کیا۔اْنہوں نے ڈاکٹر جتندر سے ڈوڈہ میں اسپورٹس دفتر قائم کرنے ک8 بھی اپیل کی۔میٹنگ میں شام لال، کرشن لال خورشید مسگر، رشید شیخ، ڈاکٹر بشارت، عطا محمد، بٹ، نیلچہ و دیگران نے شرکت کی۔