سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریاں بوکھلاہٹ

 سرینگر// تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے عبدالصمد انقلابی، سہیل احمد پرے حاجن اور صیف احمد لون گنڈپورہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت وادی سے باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے اور پلوامہ، شوپیان اور کولگام میں جوانوں کو گرفتار کرنے اور بستیوں کا کریک ڈاؤن کرکے خانہ تلاشیاں لینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کرنا انتظامیہ کی بوکھلاہٹ ہے۔ صحرائی نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کو جان بوجھ کر انتظامیہ اور فورسز ٹھٹھرتی سردیوں میں ظلم وتشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شبانہ چھاپوں کے دوران خانہ تلاشیاں لے کر مکینوں کو رات بھر گھروں سے باہر نکال کر سڑکوں پر راتیں گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھو نارہ بل کاکہ پورہ میں رات بھر خانہ تلاشیاں جاری رکھ کر لوگوں کو عذاب وعتاب میں مبتلا کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ اسی طرح ریڈونی کولگام میں بھی محاصرہ کرکے خانہ تلاشیاں لے کر مکینوں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں کو ظلم وجبر سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ظالمانہ کارروائیوں سے عوام کو مرعوب یا خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔