سیاسی جماعتیں دفعہ35اے اور 370پر خوف پیدا نہ کریں

سرینگر // ریاستی گورنر ستہ پال ملک نے شاہراہ پر 2 دنوں کی بندش پر کہا ہے کہ ریاستی سرکارکشمیر کے لوگوں کو تکلیف دینے والا کوئی کام نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیر میں پرامن انتخابات ہوں باغ گل لالہ کا دورہ کرنے کے دوران گورنر نے کہا کہ کل اس پر پھر سے غور ہوا اور آج بھی اس پر ایک میٹنگ طلب کی جا رہی ہے اور جتنے مدعے ان دو چار روز میں اٹھائے گئے ہیں اُن سب کو حل کیا جائیگا ۔انہوں نے کہا ’’کشمیر کے لوگوں کو تکلیف دینے والا کوئی بھی کام ہم نہیں کریں گے‘‘۔

 انتخابات 

سیاسی لیڈران کو سیکورٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیاسی لیڈران کو جتنی سیکورٹی چاہئے انہیں ملے گی اوراس سے قبل بھی سیاسی لیڈران کو سیکورٹی مہیا کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں پرامن ماحول میں انتخابات ہوں ۔

۔35اے اور370

سیاسی لیڈران کے 35Aاور370کے نعروں پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گورنر ملک نے کہا ’’ یہ اُن سے پوچھیں جو یہ کہتے ہیں،یہ میرا سبجیکٹ نہیں ہے‘‘ ۔ تاہم انہوں نے کہا’’ میں تمام سیاسی لیڈران سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انتخابات کے دوران سیاسی باتیں کہیں، چنائو کی باتیں کریں، وہ باتیں نہ کریں جن سے امن کو خطرہ ہو، ملی ٹنسی بڑھے ،آپ میں اور حریت پسندوں میں کوئی فرق نہ رہے ،آپ سیاسی لیڈر ہیں ،آپ کی اپنی سیاسی جماعتیں ہیں ،ہم سب آپ کی عزت و قدر کرتے ہیں اور آپ کی ہی یہاں جگہ ہے ،اور آپ کے بغیر یہاں سسٹم نہیں چل سکتا ہے، میں آپ سے گذاش کرتا ہوں کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ پرامنرہیں۔ 35Aاور370 کے ہٹنے سے ڈیموگرافی تبدیل ہو نے کے بارے میں این سی اور پی ڈی پی کے بیانات پرگورنر نے کہا ’’ جب جو ہو گا تب دیکھا جائے گا، لیکن یہ عارضی بھروسہ پیدا کر کے لوگوں کو بھڑکانے والی بات کر کے ووٹ لینے کے حق میں نہیں ہوں ،وہ بات بولیں جو آج ہو رہا ہے، یہ ہو گا وہ ہو گا یہ مت بولیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ آج یہ بات ہونی چاہئے کہ گورنر راج میں کتنا کام ہوا ، کتنے سکول کھولے گئے، کتنے چھوٹے سکولوں کا درجہ بڑھایا گیا ،کتنی سڑکوں پلوں پر کام ہوا، انتظامیہ کس طرح سے چل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر شام کو دس بجے میرے وٹس آپ پر یہ مسیج آتا ہے کہ فلاں گائوں میں ٹرانسفارمر نہیں ہے تو اگلے دن صبح دس بجے وہاں ٹرانسفارمر لگ جاتا ہے ۔
 

سلامتی صورتحال کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//گورنر ستیہ پال ملک کو راج بھون میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران پلوامہ حملے کے بعد کی سلامتی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی گئی ۔ موجودہ سلامتی صورتحال اور ابھرتے چیلنجوں کا جائیزہ لینے کے بعد گورنر نے زمینی سطح پر کڑی نظر گذر رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی عملے اور سول انتظامیہ کے درمیان رابطوں میں مزید بہتری لائی جانی چاہیے تا کہ موثر نتائج حاصل کئے جا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے ملی ٹینسی مخالف کارروائیوں کو بہتر طریقے پر انجام دیا جا سکتا ہے ۔ گورنر نے خاص طور سے بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر چوکسی کو بڑھانے ، تمام اہم شخصیات ، اداروں اور تنصیبات کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے پر بھی زور دیا ۔ گورنر نے کہا کہ سیکورٹی کانوائے کی نقل و حمل کے دوران عائد پابندیوں کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑنا چاہیے اور ایک ایسا موزوںلائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہئے تا کہ عام شہریوں کے سفر بالخصوص ایمر جنسیوں کے دوران غیر ضروری رکاوٹ حائل نہ ہو ۔ گورنر نے عوام کی بہبود کیلئے سماج میں امن اور بھائی چارے کی روایات کو تقویت بخشنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ میٹنگ میں گورنر کے مشیر کے وجے کمار ، چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ، گورنر کے مشیر امنگ نرولہ ، پرنسپل سیکرٹری داخلہ شالین کابرا ، 15ویں کور کے جی او سی لفٹینٹ جنرل کے جے ایس ڈھلن اور صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان بھی میٹنگ میں موجود تھے ۔