سہولیات سے لیس جگہ کو پہنچنے والے نقصان پر لوگ برہم پرانے جی ایم سی کیمپس کی کلاسز کو منہدم کرنے کا اقدام شدید تنقید کی زد میں

  جی ایم سی کے عارضی کیمپس میںکلاس رومز کا استعمال ہوا، اب نئی لیب قائم کی جا رہی ہے:حکام

سمت بھارگو

راجوری//گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے عارضی کیمپس میں کلاس رومز کو اچانک منہدم کرنے پر سول سوسائٹی کے اراکین کا ردعمل سامنے آیا ہے جو کسی بھی مقصد کے لیے استعمال ہونے والی اچھی طرح سے لیس جگہ کی تباہی پر فکر مند ہیں۔تاہم ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ کلاس رومز اُس وقت قائم کیے گئے تھے جب یہاں ہسپتال میں عارضی کیمپس واقع تھا جسے اب راجوری کے مائرہ گاؤں میں کالج کے مرکزی کیمپس میں منتقل کردیا گیا ہے۔

 

گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری پانچ سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اسے راجوری کے کھیوڑہ علاقے میں جی ایم سی کے ایسوسی ایٹڈ ہسپتال میں عارضی کیمپس سیٹ اپ میں شروع کیا گیا تھا اور اس عارضی کیمپس میں کچھ کلاس رومز بھی قائم کیے گئے تھے جو میڈیکل طلباء کے سیکھنے کے عمل کو سکھانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔پیر کے روز ان کلاس رومز میں جاری کام کی تصاویر اور ویڈیو وائرل ہوئے جس میں مزدوروں کو کمروں کو توڑتے ہوئے اور جائیداد کو ہٹاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔تاہم اس معاملے نے سول سوسائٹی کے اراکین کی طرف سے ردعمل کو جنم دیا ہے جنہوں نے ادارے میں کلاس رومز کی اچھی طرح سے لیس جائیداد کو ختم کرنے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔سول سوسائٹی کے ارکان بشمول محمد انیس، خدام حسین اور دیگر نے کہاکہ عارضی کیمپس میں موجود کلاس رومز کو کسی بہتر مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا کیونکہ وہ مناسب طریقے سے لیس تھے لیکن حکام اسے ختم کر رہے ہیں جو باعث تشویش ہے اور اعلیٰ حکام کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ دریں اثنا، ہسپتال کے حکام نے ایک سرکاری موقف شیئر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ پر ایک لیبارٹری قائم کی جا رہی ہے۔ہسپتال انتظامیہ نے کہا”یہ اس وقت کے ضلع اسپتال راجوری کا انتظامی بلاک تھا جسے ضلع اسپتال کو ایسوسی ایٹڈ اسپتال جی ایم سی راجوری کے طور پر اپ گریڈ کرنے کے بعد ایم بی بی ایس کی کلاسوں کے لیے ایک شفٹ سینٹر کے طور پر دوبارہ بنایا گیا تھا”۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ مائرہ میں گورنمنٹ میڈیکل کالج کی تکمیل اور کام کرنے کے بعد، میک شفٹ سینٹر کے حصے کو آیوشمان بھارت پردھان منتری ہیلتھ انفراسٹرکچر مینجمنٹ کے تحت دوبارہ بنایا جانا ہے تاکہ ہسپتال سروسز کنسلٹنسی کارپوریشن کے ذریعہ ایک ڈسٹرکٹ انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیب قائم کی جا سکے۔انتظامیہ کامزید کہناتھا”یہ پہلے سے موجود ہسپتال کی عمارت میں جگہ کی شدید رکاوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے”۔