’سڑکوں کی میگڈمائزیشن سیاسی رقابتوں کی نذر‘

 جموں //سڑکوں پر تارکول بچھانے کے معاملے کو لیکر قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کے ممبران نے سرکار پر بندربانٹ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے ممبران اسمبلی کے حلقوں کو نظر انداز کر کے سرکار نے پی ڈی پی ممبران اسمبلی حلقوں پر نظرکرم کی ہے۔اس بیچ ممبران نے سرکار کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا، جبکہ ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر اور نعیم اختر کے دوران سخت بحث وتکرار ہوئی اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی ۔قانون ساز اسمبلی میں ممبر اسمبلی عیدگاہ مبارک گل نے سرکار سے سرینگر شہر کے 8اسمبلی حلقوں میں سڑکوں پر تارکول بچھانے کے حوالے سے ایک جواب طلب کیا تھاجس کا جواب وزیر تعمیرات نعیم اختر کی غیر موجودگی میں تعمیرات عامہ کے وزیر مملکت سنیل کمار شرما نیپیش کرتے ہوئے  مکمل تفصیلات بیان کی۔مبارک گل کے تحریری جواب میں سرکار نے کہاکہ مالی سال2016.17  کے دوران اسمبلی حلقہ عیدگاہ اور حبہ کدل میں صفر کلو میٹر سڑک پرتارکول ببچھایاگیا جبکہ خانیار اسمبلی حلقہ میں اس برس کے دوران صرف0.12سڑک پر تارکول بچھایاگیا ۔ جس کے بعد ممبر اسمبلی پہلگام نے ضمنی سوالات پوچھتے ہوئے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ میں سیاست چل رہی ہے اور ایسا ہی حال اپوزیشن کے تمام اسمبلی حلقوں کا ہے ۔انہوں نے ایوان میں موجود ریاستی وزیر اعلیٰ سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہیں اس معاملے کی جانچ کرنی چاہئے کیونکہ اپوزیشن کے ممبران کے اسمبلی حلقوں کو اس حوالے سے نظر انداز کیا گیا ہے ۔تاہم ممبر اسمبلی اندروال بھی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور ضمنی سوالات پوچھتے ہوئے کہا کہ اُن کے اسمبلی حلقہ میں نبارڑکے تحت کوئی بھی سڑک پروجیکٹ نہیں رکھا گیاہے جبکہ جن اسمبلی حلقوں میں 90فیصد کام مکمل ہیں وہاں پر نئی سکیموں کو متعارف کیا گیا ۔ممبر اسمبلی خانصاحب حکیم محمد یاسین نے کہا کہ اُن سے اپنے اسمبلی حلقوں کے متعلق تفصیلات مانگی جاتی ہیں لیکن پھر اُس پر کوئی کام نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ اُن کے اسمبلی حلقہ میں 3سڑکیں اور 1پل کو نباڑ سکیم کے تحت لایا گیاہے لیکن اُس پرکام نہیں ہوا۔اس بیچ ممبر اسمبلی خانیار علیٰ محمد ساگر نے سرکار پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا کہ سرینگر شہر میں پی ڈی پی وزیر اور سابق وزیر کے اسمبلی حلقوں میں سال2016.17میں کئی کلو میٹر پر سڑکوں پر تارکول بچھایاگیااور نیشنل کانفرنس کے ممبران اسمبلی کے حلقوں میںایک کلو میٹر پر تارکول بچھانے کا کام کیا گیا ۔ساگرنے اس دوران اسمبلی میں سرکار کی طرف سے پیش کئے گے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے  کہا کہ سرکار نے نیشنل کانفرنس کے اسمبلی حلقوں کو تارکول بچھانے کے حوالے امتیاز سے کام لیا ہے ۔انہوں نے سابق وزیر تعمیرات سید الطاف بخاری اور عبدالرحمان ویری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی تعمیرات کے وزیر رہے لیکن تب ایسا نہیں ہوا لیکن مالی سال 2016.17میں اپویشن کے اسمبلی حلقوں کو سیاسی بنیادوں پر نظر انداز کیا گیا ۔اگرچہ اس دوران وزیر مملکت سنیل شرما نے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی اور ممبران کو یقین دلایا کہ اُن کی شکایات کو دور کیا جائے گا لیکن احتجاج کرنے والے ممبران مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے ویل تک پہنچ کر ہاتھوں میں رکھے کچھ کاغذات پھاڑ کر پھینک دئے ۔اپوزیشن نے اس دوران’’ بندر بانٹ بند کرو‘Discrimationبند کرو بند کرو کے زور دار نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔جبکہ کچھ دیر بعد دوبارہ اپوزیشن کے ممبران ایوان میں داخل ہوئے جہاں تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر ایوان میں تھے اور کسی اور سوال کا جواب دے رہے تھے تو اس دوران وزیر نے واک آئوٹ کرنے والے اپوزیشن  ممبران کو مطمئن کرنے کیلئے تارکول بچھانے کے معاملے پر بیان دینے کی کوشش کی، تو ممبران بالخصوص علی محمد ساگر نے اُن پر الزام عائد کیا کہ وہ معاملے کو ٹال رہے ہیں اور اصل سوال کا مناسب جواب نہیں دے رہے ہیں ۔اس پر نعیم اختر آپے سے باہر ہوئے اور علی محمد ساگر پر برسنے لگے تاہم دونوں اطراف سے تلخ کلامی توں توں میں میں شروع ہوا اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی اس بیچ جہاں پی ڈی پی ممبران اسمبلی نے نعیم اختر کا ساتھ دیتے ہوئے خوب ٹٹیبل بجائے وہیں نیشنل کانگرنس کے ممبران اسمبلی جن میں عبدالمجید لارمی ، شمیمہ فردوس ، میاں الطاف احمد ، دیوندر رانا ، الطاف کلو ،محمد اکبر لون ،مبارک گل نے سرکار پر الزامات لگائے تاہم شور شرابہ کے بیچ کچھ سب کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا تاہم علیٰ محمد ساگر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ہم بکواس نہیں کرتے جبکہ عبدالمجید لارمی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ہم سرکار سے سوال پوچھ رہے ہیں نہ کے بکواس کرتے ہیںاس بیچ اگرچہ مداخلت کرتے ہوئے پارلمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے ممبران کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ متعلقہ وزیر سرینگر کے اسمبلی حلقوں میں سڑکوں پر تارکول بچھانے کے حوالے سے وضاحت کرنا چاہتے ہیں ،تاہم اپوزیشن کے ممبران نے دوبارہ شور شرابہ شروع کیااور اس بیچ وقفہ سوالات کا وقت ختم ہونے کے بعد ہی ممبران کا احتجاج بھی ختم ہوا ۔