سڑکوں کی صورتحال ابتر، بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ پریشان

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ تنویر صادق نے انتظامیہ سے کہا کہ وہ جموںوکشمیر کے عوام کے مسائل اور مشکلات کے تئیں بیدار ہوجائے اور لوگوں کی راحت رسانی کیلئے کاغذی گھوڑے دوڑانے کے برعکس حقیقی معنوںمیں ٹھوس اقدامات کرے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے سرینگر کے اندرون شہر بشمول گلشن باغ، زونی مر،صورہ ،گلی کدل اور دیگر ملحقہ علاقوں کے تفصیلی دورے کے دوران مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں اور گلی کوچوں کی حالت ناگفتہ بہہ ہے اورسڑکوں پر میکڈمائزیشن یا گلی کوچوں کے مرمت کا کام کہیں بھی ہوتے دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ سڑکوں پر میکڈمائزیشن کے کام کا سیزن صرف 6 ماہ کا ہوتا ہے اور مئی کا نصف مہینہ بھی ختم ہونے کو ہے لیکن ابھی تک کہیں بھی کام شروع نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے فوری طور پر کام شروع کیا جائے تاکہ سیزن ختم ہونے سے پہلے پہلے تمام سڑکوں پر مکڈم بچھانے کا کام مکمل کیا جاسکے۔ بجلی کے بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں کشمیر میں لوگوں کو رمضان المبارک میں افطار اور سحری کے وقت بجلی سے محروم رہنے کی سزا دی گئی، اسی طرح جموں کے لوگوں کو اس شدید گرمی میں بجلی کی کٹوتی کا سامنا ہے لیکن حکومت بجلی سپلائی کی بہتربنانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بجلی کی بہتری کے بجائے بجلی کی فیس میں اضافے کیلئے میدان بنایا جارہاہے۔ انہوں نے KPDCLکی طرف سے بجلی صارفین کے فیس میں اضافے کی تجویز کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حکومت و انتظامیہ لوگوںکو راحت پہنچانے کے بجائے ان پر اضافی بوجھ ڈالنے کی مرتکب ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے جموں و کشمیر کے لوگوں پر بہت زیادہ بوجھ پڑے گا۔تنویر نے حکومت سے درخواست کی کہ اس تجویز کو مکمل طور پر روک دیا جائے۔تنویر صادق نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سرینگر کے مرکز شہر خاص کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہاہے۔زونی مرکے علاقے کا دورہ کے دوران مقامی لوگوں نے بتایا کہ راشن گھاٹ کو تالا لگا کر بغیر کسی وجہ کے بند کر دیا گیا ہے اور کسی دوری جگہ منتقل کردیا گیا ہے۔راشن گھاٹ کو تالا لگا دیکھ کر تنویر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ راشن اور دیگر ضروری اشیاء عام لوگوں کو ان کی دہلیز پر دستیاب ہوں لیکن بدقسمتی سے یہاں ایسا ہی ہے۔ تنویر نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ فوری طور راشن گھاٹ کو بغیر کسی تاخیر کھول کر اس عوامی مطالبے کو پورا کریں۔اُن کے ہمراہ صدرِ بلاک مشتاق بیگ، یوتھ صدر بلال احمد، شیخ شاہد اور دیگر عہدیداران بھی تھے۔