سوپورکے عبدالغنی کی مسلسل اسیر ی صحرائی نے مذمت کی

سرینگر //تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے محبوس لیڈر عبدالغنی بٹ ( سوپور) کی گرفتاری کو انتظامیہ کی جانب سے طول دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موصوف سال2016 کی عوامی تحریک کے دوران گرفتار کئے گئے جبکہ اِس دوران اُن کے گھر اور اسباب خانہ کو تہس نہس کیا گیااور ان کے لکڑی کے کارخانے کی توڑ پھوڑ کی گئی۔صحرائی نے کہا عبدالغنی بٹ پر دوران اسیری ہی بار بار سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا جبکہ ریاستی عدلیہ نے ان پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کو کالعدم قرار دے کر اُن کی رہائی کے احکامات صادر کئے،مگر انتظامیہ نے اُن پر فرضی الزامات عائد کئے اور ان ہی فرضی الزامات میں گزشتہ ڈھائی برسوں سے وادی اور بیرون وادی جیلوں میں اسیری کی زندگی گزاررہے ہیں۔اہل خانہ کے مطابق کل اُن کو کل سپیشل کورٹ میں سرینگر میں پیش کیا گیا،مگر عدالت نے انہیں ضمانت فراہم نہیں کی ۔ صحرائی نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ عبدالغنی بٹ کی رہائی میں جان بوجھ کررکاوٹیں کھڑی کررہی ہیں۔ عبدالغنی بٹ کی اسیری کی وجہ سے ان کے اہل خانہ انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ موصوف کی اہلیہ سخت علیل ہے اورکی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے ۔