سوائن فلو کا تدارک ،معالجین اینٹی وائرل ادویات تجویز کریں:ڈاک

سرینگر// وادی میں اس سیزن کے دوران ابھی تک سوائن فلوسے 7 اموات کے بعد ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے خنزیری زکام کے مریضوں کیلئے اینٹی وایرل ادویات شروع میں ہی تجویزکرنے پرزوردیا ہے ۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر اور زکام کے ماہر ڈاکٹر نثار الحسن نے ایک بیان میں کہا کہ پہلے ہی اینٹی وائرل ادویات دینے سے خنزیری زکام سے موت کوروکا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 78تحقیقی جائزوں جو38ممالک میں 29000مریضوں پر کیاگیا،سے پتہ چلا ہے کہ پہلے ہی اینٹی وائرل ادویات دینے سے خنزیری زکام سے موت کاخطرہ60فیصد کم ہوتا ہے۔ڈاکٹر نثار نے صلاح دی کہ ڈاکٹروں کو پہلے ہی ٹیسٹوں کی رپورٹ آنے کا انتظار کئے بنا زکام کے مریضوں کو اینٹی وائرل ادویات تجویز کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک پینل رپورٹ کے مطابق2017میں پونے میں خنزیری زکام سے ہوئی اموات میں سے70فیصد اس وجہ سے ہوئی کہ انہیں علاج شروع کرنے میں دیرکی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بیماری کے شروع ہونے کے پہلے48گھنٹوں کے دوران ہی اینٹی وائرل دوائیاں دینا بہترین علاج ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں دیر سے بھی دیا جائے تب بھی فائدہ ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اینٹی وائرل ادویات اُن مریضوں کو تجویز کی جاتی ہیں جن میں مصدقہ طور فلوہو یا ہونے کاشبہ ہویاجو اسپتال میں داخل کئے گئے ہوںیا جو زیادہ بیمار ہو یا جن کو زکام سے پیچیدگیاں پیدا ہونے کاخطرہ ہو۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ اس وقت Oseltamivirبہترین اینٹی وائرل دوائی ہے جو فلو کے علاج اور اس سے بچنے کیلئے دی جاتی ہے اوریہ میڈیکل اسٹوروں پر دستیاب ہے ۔یہ دوائی حاملہ خواتین اور دو ہفتوں کی عمر تک کے بچوں کو بھی دی جاسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک اوردوائی Baloxavir,جوایف ڈی آئی نے منظور کی ہے 12برس  اور اس سے زیادہ عمرکے مریضوں کو دی جاسکتی ہے اور اس کی صرف ایک خوراک لینی پڑتی ہے۔ ڈاکٹر نثار نے متنبہ کیا کہ H!N!خنزیری زکام اس برس غالب ہے اور تباہی مچارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سال کے سخت موسم میں خنزیری زکام کا مقابلہ کرنے کیلئے اینٹی وائرل ادویات بہترین ہتھیار ہے ۔