سنجواں خودکش حملہ: حملہ آوروں کے زیر استعمال گاڑی بھی ضبط

نیوز ڈیسک
 جموں// سنجوان عسکریت پسند خودکش حملہ کیس میں ان کے کردار کے لئے گرفتار کئے گئے تین ملزمین کو ایک عدالت نے 10 دن کا پولیس ریمانڈ منظور کیا۔بلال احمد وگے (ڈرائیور) اور اس کا مددگار اشفاق احمد چوپان ساکنہ کوکرناگ اننت ناگ اور شفیق احمد شیخ،ساکن ترال پلوامہ کو تیسرے ایڈیشنل سیشن جج ،جونامزد این آئی اے عدالت بھی ہے ،کی عدالت میں پیش کیا گیا۔پولیس نے گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کے لیے ریمانڈ بھی طلب کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جموں پولیس نے خودکش حملے کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا تھا اور کیس میں پیش رفت کے ساتھ ایک شخص کو حراست میں لیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ بلال نے پشتو بولنے والے دو عسکریت پسندوں کو سانبہ کے سرحدی علاقے سپوال سے ایک منی ٹرک میں سنجوان پہنچایا تھا جسے بھی قبضے میں لے لیا گیا۔اس منی ٹرک میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ چار افراد سوار تھے جن میں بلال بطور ڈرائیور، دوسرا شخص اور دو خودکش حملہ آور تھے۔دوسری جانب پولیس نے شفیق احمد شیخ کو گرفتار کر لیا ہے جس نے عسکریت پسندوں کو موصول کیا تھا اور محمد اقبال راتھر ولد عبدالرحمن راتھر کے رہائشی احمد آباد کے قریب مسجد ڈی ایچ پورہ، مالوان کلگام میں موجودہ جلال آباد سنجوان کے گھر میں ان کے قیام کا انتظام کیا ہے۔ اقبال کو پولیس نے تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔چونکہ تین افراد پولیس کی تحویل میں آ چکے ہیں، پولیس نے مفرور آصف کے خلاف تلاش شروع کر دی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عسکریت پسندوں کے حملے میں ایک نیم فوجی اہلکار ہلاک ہوا تھا جسے جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے 22 اپریل 2022 کو صبح کے اوقات میں ناکام بنایا تھا۔

 

سنجواں خودکش حملہ کے بعد

 پورے بین الاقوامی سرحد پر خصوصی سرنگ مخالف مہم شروع 

سید امجد شاہ

جموں// بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) نے بین الاقوامی سرحد کے پار جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں اپنی خصوصی اینٹی ٹنلنگ مہم شروع کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا سرحد کے پار کوئی سرنگ موجود ہے۔بی ایس ایف کے ایک سینئر افسر نے کہا ’’سرنگ مخالف مہم خاص طور پر 22 اپریل 2022 کو جموں ضلع کے سنجوان علاقے میں جیش عسکریت پسندوں کے مہلک خودکش حملے کے بعد شروع کی گئی ہے حالانکہ اس طرح کی مہم وقتاً فوقتاً چلائی جاتی رہتی ہے‘‘۔افسر نے بتایا کہ تحقیقاتی ایجنسی (جے کے پی) کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے گئے جنگجو مبینہ طور پر سانبہ ضلع کے ساپوال کے سرحدی علاقے سے منی ٹرک میں سوار ہوئے تھے اور انہیں جموں کے سنجوان علاقے میں لایا گیا تھا خودکش حملہ کرنے کے لیے۔ اس سلسلے میں اینٹی ٹنل مہم اہم تھی۔بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے کہا “لہٰذا، یہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک منظم طریقے سے سرحدی علاقوں میں کیا جا رہا ہے”۔انہوںنے کہا کہ بین الاقوامی سرحد پر تعینات فوجی ہائی الرٹ پر ہیں اور وہ مربوط انداز میں اینٹی ٹنلنگ مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔دریں اثنا، این آئی اے نے سنجوان خودکش حملہ کیس کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہے حالانکہ سرکاری طور پر ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا یہ کیس ان کو منتقل کیا گیا ہے یا نہیں۔پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کی شمولیت سے تفتیش جاری ہے، آصف نامی ایک مفرور ملزم ابھی تک فرار ہے اور اسے گرفتار کرنا باقی ہے۔